Wednesday, November 20, 2013

امام کا علمی منہاج اور شکوک کا ازالہ


کچھ لوگوں کو امام غزالی پر یہ اعتراض رھا ھے کہ امام نے تہافت میں فلسفیوں کے ھتھیار سے فلسفیوں کے افکار کے پرخچے تو اڑا دئیے مگر اثبات الھیات کے باب میں انہوں نے مثبت کلامی دلائل نہ دئیے۔ اس سے بعضوں کو یہ بدگمانی ھوگئی کہ یا تو غزالی نے طلب شہرت کی خاطر فلسفیوں کا رد لکھا (اگرچہ اندر سے انہی باتوں کے قائل تھے) اور یا پھر یہ کہ وہ محض ''تخریب کار'' تھے، انکے پاس کوئی مثبت ایجنڈا موجود نہ تھا۔ مگر یہ دونوں شبہات امام کے طریقہ استدلال اور انکی مجموعی فکر پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ھوئے۔

>> امام کی فکر کا تخریبی پہلو:
یہ وہ پہلو ھے جہاں وہ بالخصوص فلسفیوں کا رد اور اسکا طریقہ کار بتاتے ہیں جسکا افق 'تہافت' میں ملتا ھے (جو گویا ''افکار باطلہ کی تخریب'' کا عمل تھا)۔ اس "تخریب" کیلئے امام نے جو عمومی طرز استدلال اختیار کیا اسے "داخلی تنقید" (internal criticism) کا منہج کہا جاتا ھے۔ اسکے مدمقابل نقد کا دوسرا عمومی طریقہ ''خارجی تنقید'' (external criticism) کہلاتا ھے۔

خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ مثلا اگر ھم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلائے گا۔ داخلی نقد کا مطلب کسی نظرئیے کو خود اسکے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ھے: (i) فریق مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا، (ii) یہ ثابت کرنا کہ انکے طے شدہ مقدمات سے لازما انکے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ھوتے، (iii) مفروضات کی لغویت ثابت کرنا وغیرہ۔ چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosophers) میں رداعتزال و فلسفہ کیلئے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ھتھیار استعمال کیا (امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے سسٹمیٹک انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا تھا)۔ امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذھبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ھوتا کیونکہ مذھب اور الحاد کے علمی تناظر (مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریقہ کار) میں بنیادی نوعیت کا فرق ھوتا ھے، لہذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اس پر داخلی تنقید کرنا ھوتا ھے۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذھبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف مذھب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

>> امام کی فکر کا تعمیری پہلو:
اگر امام کے ''تعمیری'' پہلو کی طرف نظر کیجائے تو معلوم ھوتا ھے کہ اگرچہ امام نے اس باب میں کلامی و فلسفیانہ طرز پر بھی اسکا اثبات کیا (جسکی نمائندہ کتاب انکا رسالہ ''کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد'' ھے) البتہ امام الہیات کے باب میں اصولا کلام و فلسفے کی بہت زیادہ افادیت کے قائل نہ تھے۔ چنانچہ علم الکلام کا مقصد امام کی نظر میں 'مسلمان شخص کے عقیدے کی حفاظت ھے جو اپنے عقائد کی بنیاد کتاب و سنت قرار دیتا ھو اور یہ چاھتا ھو کہ اسکا عقیدہ فلسفیوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رھے'۔ امام بتاتے ہیں کہ علم الکلام میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ایسے شخص کے سینے کو نور ایمان سے منور کردے جو اس سے خالی ھو۔ اسکی وجہ یہ ھے کہ اھل کلام کے پاس جتنے استدلال ہیں وہ بیرونی ساخت کے ہیں اور اسکا حامل انہی دلائل و مسلمات کو لیکر آگے بڑھتا ھے جو یا تو دھوکہ دے جاتے ہیں اور یا پھر کمزور ثابت ھوتے ہیں۔ یہ وجہ ھے کہ اثبات الہیات کے باب میں امام کلام و فلسفے پر زیادہ انحصار نہیں کرتے۔ یہی نقطہ نہ سمجھنے کی بنا پر فلسفہ ذدہ لوگوں نے جب دیکھا کہ امام نے الہیات کا فلسفیانہ اثبات نہ کیا تو وہ مذکور بالا اعتراضات کرنے لگے۔

رہا یہ سوال کہ امام نے پھر اثبات الہیات کا کونسا طریقہ بتایا؟ تو اسکی وضاحت امام نے ''المنقذ من الضلال'' (جو گویا امام کی 'سوانح عمری' ھے) میں کی ھے۔ امام نے یہاں طالبین حق کو چار اقسام میں تقسیم کیا ھے:
1) اہل کلام (اسکی حدود اوپر بیان ھوچکیں)
2) اھل باطن جنکا یہ زعم ھے کہ ھم نے امام معصوم سے سینہ بسینہ تعلیم پائی ھے۔ انکے ساتھ امام اس حد تک تو متفق ہیں کہ عقل محض سے دینی حقائق کا اکتساب نہیں ھوسکتا مگر انکے اس دعوے کو رد کرتے ہیں کہ اس اکتساب کا ذریعہ امام معصوم ھے (امام واضح کرتے ہیں کہ مفروضہ امام معصوم ایک خیالی تصویر ھے جسکا واقعات سے کوئی تعلق نہیں)
3) اھل فلسفہ جنکا یہ گمان ھے کہ ھم ہی اھل منطق ہیں (انکا رد امام نے تہافت میں خود ہی فرما دیا)
4) اھل تصوف جنکا یہ دعوی ھے کہ ھم خاصان بارگاہ ایزدی و اھل مشاھدہ و مکاشفہ ہیں۔ امام فرماتے ہیں کہ صوفیا کا طریقہ علم (دماغی عقل) سے زیادہ 'عمل' (عقلیت قلبی) پر مبنی ھے اور مجھے اس ہی طریقہ کسب کے ذریعے ایمان و ایقان کی دولت میسر آئی۔ امام نے اس طریقہ علم کا ارادہ و تجربہ اس وقت کیا جب وہ اپنے دور کی گویا آکسفورڈ و کیمبرج میں بلند پایہ استاذ الاساتذہ کے مرتبے پر فائز تھے۔ امام خود فرماتےہیں: ''میں نے ایک بہت بڑے جاہ و مرتبہ کو خیرآباد کہا اور زندگی کی عارضی و فانی لذتوں کو جو اس وقت مجھے بلا تکلیف حاصل تھیں کسی اھم مقصد (ایقان بر حقیقت) کی تلاش میں جواب دے دیا، ان لذتوں سے میں اس وقت کنارہ کش ھوا جب انکے حصول میں میرے لئے کوئی مزاحمت نہ تھی''۔ امام کہتے ہیں کہ جب میں اس راستے پر چلا تو مجھ پر بے شمار امور کا انکشاف ھوا اور مجھے معلوم ھوگیا کہ صوفیا ہی حقیقی راستے پر چلنے والے ہیں۔

جب امام کو یہ دولت ایمانی میسر آگئی تو انہوں نے ''احیاء العلوم'' (نیز 'کیمیائے سعادت') تحریر کی جس کے حصہ سوئم و چہارم میں امام اس قلبی عقلیت کی تعمیر کا طریقہ بتاتے ہیں جو حقیقت تک رسائی کا ذریعہ بنتا ھے (جنکے اسرارورموز سے امام نے کتاب الصبر، کتاب الشکر، کتاب المحبت، کتاب التوکل' میں پردہ اٹھانے کی کوشش کی ھے)۔

پس جو لوگ امام کے اس مجموعی فکری نظام پر نظر نہ رکھ سکے وہ امام کے بارے میں طرح طرح کے شبہات کا شکار ھوگئے۔ (سائنسی علمیت سے متاثر ھونے کی بنا پر علامہ اقبال بھی اپنے خطبات میں امام پر ایک اعتراض کرتے ہیں جسکا ذکر انشاء اللہ کسی دوسری پوسٹ میں ھوگا)

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔