Saturday, October 12, 2013
ماڈرنسٹوں کا ایک مزید دفاع حربہ۔۔۔۔۔۔'اگر ھم ماڈرنسٹ ھیں تو علماء بھی ماڈرنسٹ ھیں'
Posted by
Unknown
مسلم ماڈرنسٹ حضرات خود کو اسلامی تاریخ کا حصہ قرار دینے (درحقیقت اپنی
مغربی بنیادیں چھپانے) کیلئے ایک کے بعد دوسرے حربے کی تلاش میں رھتے ہیں۔
کبھی کہیں گے کہ ھم اسلاف کے ساتھ اسی طرح اختلاف کررھے ھیں جس طرح اسلاف
آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رھے ہیں، جب ان پر واضح کردیا جاۓ کہ
تمہارے اور اسلاف کے آپسی اختلافات میں بنیادی نوعیت کا فرق ھے تو پھر اپنے
دفاع کی ''بنیاد'' تبدیل کرلیتے ھیں۔ چنانچہ اب وہ پینترہ بدل کر اسلاف کے
اختلافات کے بجاۓ معاصر راسخ العقیدہ علماء و گروھوں کے چند مغربی
اقدارواداروں کی اسلام کاری یا انکی ان میں شرکت کو اپنے دفاع کی بنیاد
بنانے لگتے ھیں، یعنی وہ کہتے ھیں کہ ''اگر ھم مغربی افکار کی اسلام کاری
کی وجہ سے ماڈرنسٹ ہیں تو یہ علماء بھی ایسا کرنےکی وجہ سے ماڈرنسٹ ھیں۔
لہذا یا تو ھم بھی ماڈرنسٹ نہیں اور یا پھر علماء بھی ماڈرنسٹ ھیں''۔ اس
دلیل کا تجزیہ کرنے کیلئے ھم یہاں جمہوریت کی مثال لئے لیتے ھیں جسکا جواز
ھمارے یہاں سب سے زیادہ پیرایوں اور شیڈز میں پایا جاتا ھے۔ اس ضمن میں ان
ماڈرنسٹوں کا استدلال یہ ھے کہ اگر ھم جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے کی
بنا پر ماڈرنسٹ ہیں تو وہ تمام علماء و مذھبی گروہ بھی ماڈرنسٹ کہلانے
چاہئیں جنہوں نے یا تو اسکی اسلام کاری کی اور یا پھر آزادی ھند کیلیے
کانگریس یا مسلم لیگ میں شرکت کی (کہ یہ دونوں جماعتیں جمہوری جماعتیں
تھیں)۔
مگر یہ دلیل بھی اسلاف کے اختلافات پر اپنے اختلافات کو
قیاس کرنے کی طرح سطحی تجزئیے کا نتیجہ ھے۔ اس دلیل کا مختلف پیرایوں میں
تجزیہ کرنا ممکن ھے البتہ یہاں خوف طوالت کی بنا پر ایک کا ذکر کرتے ھیں۔
ماڈرنسٹ حضرات یہ دلیل دیتے وقت یہ بنیادی بات بھول جاتے ہیں کہ بسا اوقات
دو مختلف لوگ مختلف وجوہ اور دلائل کی بنیاد پر یکساں نتیجے پر پہنچ سکتے
ہیں، اور انکے استدلال کی نوعیت کا یہی فرق دو مختلف قسم کے رویوں کو تشکیل
دیتا ھے۔ لہذا انہیں ایک جیسا سمجھنا مسئلے کی نوعیت پر غور نہ کرنے کا
نتیجہ ھوتا ھے۔ چنانچہ اثبات جمہوریت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ھے۔
جمہوریت کا اثبات یا اس میں شرکت چند وجوہ کی بنیاد پر ممکن ھے۔ مثلا:
1) اسلام کا اصل ریاستی نظم صرف جمہوریت ھے، اسکے علاوہ سب غلط ھے جیسے
غامدی صاحب کہتے ہیں (اس سے لازما یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ چودہ سو سال تک
اسلاف اسلام کی سیاسی تعلیمات کو نہ سمجھ سکے لہذا تاریخی اسلامی سیاسی فکر
مشکوک و مردود ھے)
2) اسلام کا آئیڈئیل و مطلوب تو جمہوریت ہی ھے
البتہ قبائلی دور میں اسکے نفاذ کے امکانات موجود نہ تھے لہذا ملوکیت جو
اصولا تو بری اور غیر مطلوب ہی تھی، مگر اس دور کے معاشرتی حقائق کے تحت
قابل فہم ھے اور اسلاف اسلام کا یہ حکم نہ سمجھ سکنے کے معاملے میں بس
معذور تھے۔ البتہ آج چونکہ حالات بدل چکے ھیں اور فرد کی اہمیت کو دنیا
پہچان چکی ھے لہذا اب جمہوریت کے سواء کسی غلاظت کو اپنے سر پر سجانے کی
کوئ وجہ نہیں۔ پس فورا اسلام کا آئیڈئیل نظام نافذ کرو
3) اسلام کا کوئ
مخصوص سیاسی نظم نہیں، ھر دور کے لوگ اپنی سہولت و عرف کے مطابق کوئ بھی
ترتیب اختیار کرسکتے ہیں۔ آج چونکہ دنیا میں جمہوری طریقہ معروف و مقبول ھے
لہذا اسے اختیار کرلینے میں کوئ قباحت نہیں۔ اثبات جمہوریت کی یہ تعبیر نہ
تو اسکا حکمی شرعی جواز ھے (بلکہ یہ محض 'اجازت' کی بات ھے نہ کہ حکم یا
مطلوب کی)، نہ ہی اسکی رو سے اسلاف کا فہم اسلام غلط قرار پاتا ھے اور نہ
ہی اسلامی تاریخ بوجہ عدم جمہوریت لائق مطعون ٹھرتی ھے
4) جمہوریت
اگرچہ غلط ھے مگر آج کے زمینی حقائق میں اس سے سہو نظر ممکن نہیں کہ یہ
چنداں ناگزیر ھوچکی، آج کے دور میں سیاسی جدوجہد اور قوت مربوط کرنے کا یہ
نہایت اھم ذریعہ اور طریقہ ھے لہذا اس راستے اور فرنٹ کو باطل کیلئے کھلا
نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ اسکے ذریعے جو کچھ خیر جمع کیا جا سکتا ھے وہ جمع
کیا جانا چاھئے اور باطل کے راستے میں جتنا ھوسکے روڑے اٹکاۓ جائیں۔ یہ بھی
جمہوریت کا کوئ اصولی شرعی جواز نہیں بلکہ 'حکمت عملی' (فقہ الواقع) کے
باب کے تحت اسکے ساتھ تعامل کرنے کی بات ھے، نہ ہی اس تعبیر سے تاریخی
اسلامی تشریح قابل رد قرار پاتی ھے
درج بالا چار میں سے پہلے دو
خالصتا ماڈرنسٹ رویے ہیں، جبکہ آخری دو نہیں (یاد رھے، مسلم مادرنسٹ کے دو
بنیادی وظائف ھیں: ''تاریخی اسلام کا رد، ماڈرنزم کا اثبات'')۔ تیسرا رویہ
اگرچہ ماڈنسٹ رویہ نہیں مگر یہ خطرات سے خالی بھی نہیں کیونکہ یہ رویہ
اختیار کرنے والے لوگ جمہوریت کو غلط طور پر غیر اقداری اور خلاف اسلام نہ
سمجھ کر اس کے ساتھ بلاتکلف تعامل کرتے ھیں جسکے نتیجے میں مرور زمانہ کے
ساتھ یہ تعامل ایک قسم کا نفسیاتی و معاشرتی جواز حاصل کرلیتا ھے (جیسا کہ
جمہوریت نے طبقہ علماء کے یہاں کرلیا ھے)۔ مگر اس غلطی کو (اگر کچھ ھے بھی)
زیادہ سے زیادہ اجتہادی خطا یا حکمت عملی کی غلطی کہا جاسکتا ھے 'اصولی
ٹھوکر' نہیں۔ چنانچہ علماء کی اکثریت جمہوریت کے ساتھ تیسری یا چوتھی میں
سے کسی ایک بنا پر تعامل اختیار کرتی ھے اور کرتی رھی ھے۔ لہذا ان ماڈرنسٹ
حضرات کا خود کو علماء کی صفوں میں تلاش کرنا یا علماء کو اپنی صفوں میں
گھسیٹ لانے کی کوشش کرنا بے سود ھے۔ علمی دیانت کا تقاضا تو یہ ھے کہ ان
متجددین کو کھلے دل سے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاھئے کہ ''یہ اسلامی تاریخ سے
کٹے ھوۓ لوگ ھیں'' لہذا یہ اپنی فکری جڑیں یہاں تلاش کرنے کی لاحاصل جدوجہد
ترک کردیں۔ ایسی ہر جدوجہد انکے لئے مزید پشیمانی کا باعث ہی بنے گی۔ یہ
بات سمجھ سے بالاتر ھے کہ آخر تاریخی فہم اسلام کو رد کردینے کے بعد ایک
شخص کس منہ سے خود کو اسلامی تاریخ کا وارث قرار دے سکتا ھے؟ ایسا صرف ایک
فاتر العقل انسان ہی کرسکتا ھے کہ جس شے کو ابتداء رد کررہا ھے پھر خود کو
اسی کا تسلسل بھی قرار دے، فیا للعجب (اگر تاریخ معتبر نہیں اور تم اسی کا
تسلسل ھو تو تم کیسے معتبر ھوگئے؟)۔
الحاد پر تنقید کا غزالی منہاج
Posted by
Unknown
امام غزالی (رح) کسی فکر پر تنقید کے دو مناھیج کا ذکرکرتے ہیں (1) خارجی تنقید (2) داخلی تنقید ۔
خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ مثلا اگر ھم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلاتا ھے۔ داخلی نقد کا مطلب کسی نظرئیے کو خود اسکے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ھوتا ھے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ھے: (الف) فریق مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا، (2) یہ ثابت کرنا کہ انکے طے شدہ مقدمات سے لازما انکے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ھوتے، (3) مفروضات کی لغویت ثابت کرنا وغیرہ۔
چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosophers) میں رداعتزال کیلئے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ھتھیار استعمال کیا (امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے سسٹمیٹک انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا)۔ امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذھبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ھوتا کیونکہ مذھب اور الحاد کے علمی تناظر (مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریقہ کار) میں بنیادی نوعیت کا فرق ھوتا ھے، لہذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اسکی داخلی تنقید کرنا ھوتا ھے۔
درحقیقت امام کا طریقہ کار جدید الحاد کیلئے بھی صد فیصد درست ھے کیونکہ اس الحاد کے مفروضات کو بھی قرآن و سنت سے رد کرنا ممکن نہیں ھوتا کیونکہ الہامی نصوص ان ملحدین کے نزدیک نہ صرف یہ کہ سرے سے دلیل ہی نہیں ھوتیں بلکہ ان کے ذریعے الحادی مفروضات و مقدمات کو براہ راست ایڈریس کرنا بھی ممکن نہیں ھوتا (کہ یہ دو مختلف مناہیج ہیں)۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذھبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف مذھب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔
ھیومن رائٹس اور حقوق العباد کا بنیادی فرق
Posted by
Unknown
ھیومن (جیسے کہ ایک پوسٹ میں واضح کیا گیا) خدا کی باغی تصور ذات ھے۔ یہ تصور ذات آزادی بطور قدر کو خیروشر، عدل و ظلم اور حق و باطل کا پیمانہ گردانتی ھے اور اسی کی بنیاد پر انہیں ڈیفائن کرتی ھے (آزادی بطور قدر کی وضاحت بھی ایک پوسٹ میں کی گئی تھی)۔ چنانچہ ھیومن رائٹس بھی اسی تصور ذات سے نکلنے والے حقوق ھیں۔ مذھبی حلقے اکثروبیشتر ھیومن رائٹس کا ترجمہ 'انسانی حقوق' اور حقوق العباد کی بعض شقوں سے انکی مماثلت کی بنا پر نہ صرف یہ کہ ھیومن رائٹس کو حقوق العباد کا پرتو بلکہ اسلام کو انکا ماخذ تک قرار دیتے ھیں۔ یاد رکھنا چاھئے کہ یہ انتہائ خوفناک علمی غلطی ھے۔
حقوق العباد کا جواز اور اسکی ترتیب ارادہ خداوندی سے طے پاتی ھے یعنی یہاں ایک انسان (عبد) کو کسی فعل کا حق ھونے یا نہ ھونے کا فیصلہ کتاب و سنت کی روشنی میں ھوتا ھے جبکہ ھیومن رائٹس کی تخریج انسان (ھیومن) کی خود ارادیت (آزادی بطور قدر) کے پیمانے سے ھوتی ھے۔ ھیومن رائٹس کی بعض شقوں میں حقوق العباد سے مشابہت کی بنا پر دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کیونکہ حقوق کے معاملے میں اصل شے تعین حقوق کی بنیاد اور وجہ جواز ہوتی ھے، دو مختلف بنیادوں سے چند یکساں دکھنے والے حقوق برآمد ھونا ان بنیادوں کے باہمی طور پر آھنگ یا ان میں سے کسی ایک کے دوسرے کا ماخذ ھونے کی دلیل نہیں ھوتی۔ چونکہ ھیومن رائٹس فریم ورک میں حقوق کا ماخذ ارادہ خداوندی (کتاب و سنت) نہیں بلکہ فرد کی مساوی خود ارادیت (equal autonomy) ھوتی ھے لہذا اس فریم ورک میں فرد کے پاس ہمیشہ یہ حق محفوظ ھوتا ھے کہ وہ ارادہ خداوندی کو پس پشت ڈال کر کوئ ایسا حق حاصل کرلے جو ارادہ خداوندی سے متصادم ھو۔ یہی وجہ ھے کہ ھیومن رائٹس فریم ورک سے جس طرح بہت سے ایسے حقوق برآمد ھوتے ہیں جو حقوق العباد سے مشابہت رکھتے ہیں (مثلا زندگی کا حق) بالکل اسی طرح اس فریم ورک سے بے شمار ایسے حقوق بھی اخذ ھوتے ھیں جو حقوق العباد فریم ورک کے خلاف ہیں (مثلا بدکاری یا عمل لواطت کا حق، مذہبی شعار و انبیاء کا مضحکہ اڑانے کا حق وغیرہ)۔
ھیومن رائٹس فریم ورک کے مطابق انسان قائم بالذات ہستی ھے لہذا اسے فطری طورپر چند ایسے ناقابل تنسیخ حقوق حاصل ہیں جو کسی دوسری بنیاد (مثلا مذھب) پر رد نہیں کئے جاسکتے (دھیان رھے فطری حقوق کا یہ مقدمہ محض ماقبل عقل ایک مفروضہ ھے جسکی کوئ افاقی عقلی بنیاد ان ملحدین کے پاس موجود نہیں)۔ اسکے مقابلے میں اسلامی نقطہ نگاہ سے انسان کا ایسا کوئ حق ھے ہی نہیں جس کا جواز ماوراۓ اسلام کسی دوسری بنیاد (مثلا فطرت، عقل وغیرہ) سے نکلتا ھو۔ اانسان کے حقوق بس وہی ھیں جو اسکے خالق نے اپنی عبدیت کا فرض بجا لانے کیلئے اسے بذریعہ انبیاء عطا کئے، اسکے خلاف وہ جو بھی حقوق ڈیفائن کرتا ھے درحقیقت ظلم اور استحصال کے زمرے میں شمار ھوتا ھے اور ایسے ظالمانہ و استحصالی ھیومن رائٹس کو ختم کرکے حقوق العباد کو قائم کر دینا ہی عدل کا تقاضا ھے۔
اسے لئے ھم کہتے ھیں کہ ھیومن رائٹس درحقیقت حقوق العباد کا اقرار نہیں بلکہ انکار اور نفی ھے، کیونکہ ہیومن رائٹس عبد کے نہیں بلکہ ھیومن (خداکے باغی) کے حقوق ھوتے ہیں جبکہ حقوق العباد عبد کے۔ جب ھیومن عبد ھونے کی نفی ھے تو ھیومن رائٹس کیسے حقوق العباد کا اقرار ھوسکتا ھے؟
مسلم مفکرین کے درج بالا قسم کے خلط مباحث کا شکار ھونے کی بنیادی وجہ اسلام کو مغرب یا مغرب کو اسلام میں تلاش کرنے کی کوشش کرنا یا انہیں کسی معنی میں ایک دوسرے کا پرتو فرض کرنا ھے۔ یاد رکھنا چاہئے، ھیومن اور عبد کے درمیان مساوی ھم وجودیت (co-existence) ممکن نہیں، ان میں سے کسی ایک کو لازما مغلوب ھونا پڑتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ جن معاشروں میں ھیومن اور ھیومن رائٹس عام ھوتے ہیں وہاں عبدیت اور حقوق العباد معدوم ھوجاتے ھیں۔
تجدد اور الحاد کا باہمی تعلق۔۔۔۔۔۔تفھیم مذھب کا درست طریقہ، تاریخیت نہ کہ معروضیت
Posted by
Unknown
عیسائیت کی شکست و ریخت اور جدید تنویری الحاد کے غلبے کی تاریخ بتاتی ھے کہ لوگ یک دم مذھب ترک کرکے الحاد قبول نہیں کرلیتے بلکہ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ھوتا ھے جسکا آغاز تجدد پسندی سے ھوتا ھے۔ اسکا مختصر نقشہ کچھ یوں ھے:
الف) پہلے (ایک مخصوص تناظر میں) مذھب کی تاریخی تشریح و تعبیر کو رد کر کے مذھب کی انفرادی تعبیرات اختیار کرنے کا پلیٹ فارم فراھم کیا جاتا ھے
ب) یہ مذھب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرکے ذاتی زندگی تک محدود کرنے کی ابتداء ھوتی ھے کیونکہ تاریخی تناظر نظر انداز کردینے کے بعد محض الفاظ باقی رہ جاتے ہیں جنکی درجنوں تعبیرات ممکن ھوتی ھیں اور ان میں یہ طے کرنے کا کوئ پیمانہ موجود نہیں ھوتا کہ کونسی تشریح درست تشریح ھے، لہذا مذھب لازما ایک ذاتی شے بن جاتا ھے اور یہ اجتماعی زندگی سیکولرائز کرنے کا مذھبی جواز ھوتا ھے
ج) یہ جدید انفرادی تشریحات مذھب کی ایک معروضی (حاضروموجود) تناظر میں تفہیم وضع کرنے کی کوشش کرتی ھیں۔ کیونکہ حاضر و موجود تناظر مذھب سے نہیں بلکہ اس سے ماوراء کسی دوسرے تاریخی تناظر (مثلا تنویری تناظر) سے برآمد ھوکر آتا ھے لہذا اب مذھب کی تعبیر ایک دوسری تاریخ اور علمیت کے مطابق کی جانے لگتی ھے۔ گویا تجدد کے نتیجے میں فی الواقع جو تبدیلی رونما ہوتی ھے وہ یہ نہیں کہ اب مذھب کی ماورائے تاریخ کوئی آفاقی عقلی تشریح پیش کردی جاتی ھے (جیسا کہ یہ متجدیدین دعوی کرتے ھیں) بلکہ صرف اتنی تبدیلی آتی ھے کہ مذھب کا معتبر حوالہ خود اسکی اپنی تاریخ کے بجاۓ ایک غیر مذہبی تاریخ کی طرف منتقل کردیا جاتا ھے، اور بس۔ یہ مذھب کو غیر معتبر بنانے کی ابتداء ہوتی ھے
د) اس غیر مذھبی تاریخ اور علمیت میں جب مذھب کو سمونے کی کوشش کی جاتی ھے تو یہاں مذھب کی حیثیت انتہائ کمزور ھوتی ھے، یہاں مذھب کو انفرادی شناخت کے حوالے سے تاریخی تقدس بھی حاصل نہیں ھوتا۔ لہذا مذھب یہاں کبھی قول فیصل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک تابع مہمل بن کر رھتا ھے، ہر وہ مقام جہاں خدا کی بات (چاھے وہ کتنی ہی قطعی کیوں نہ ھو) معروضی تناظر کے خلاف ھو لازما اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس معاملے میں خدا اپنا ذہن تبدیل کرے بصورت دیگر یہ بات رد کردینے لائق ھے (اور جدید تناظر میں خدا کی ایسی بے شمار باتیں ھوتی ہیں)
ھ) اگر خدا کو بالآخر وہی کہنا اور ماننا پڑتا ھے جو معروضی تناظر طے کرتا ھے تو ایسے خدا سے راہنمائ لینے کی ضرورت ہی کیا ھے، اس مقام پر پہنچ کر لوگ مذھب کا نفسیاتی قلادہ بھی اتار پھینکتے ہیں۔ یہ الحاد کی مذھبی تابوت میں آخری میخ ھوتی ھے۔
لہذا خوب یاد رھنا چاھیے کہ مذھب کو سمجھنے کا درست طریقہ اسکی تاریخیت (historicism) سے جڑے رھنا ھوتا ھے نہ کہ معروضی (objective) پیمانے اختیار کرتے چلے جانا، کیونکہ جنہیں معروضی حقائق سمجھ کر قبول کیا جارہا ھوتا ھے وہ درحقیقت غیر اقداری و نیوٹرل نہیں بلکہ ایک ماوراۓ مذھب تاریخ، تہذیب و علمیت سے برآمد ہورھے ہوتے ہیں اور جنکے بذات خود ٹھیک ھونے کی کوئ گارنٹی موجود نہیں ھوتی چہ جائیکہ انکی بنیاد پر مذھب کی مرمت شروع کردی جاۓ۔ ایسی تقریبا ہر جدوجہد کا نتیجہ تجدد کے ذریعے الحاد کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ھوتا ھے۔ عیسائیت کی شکست چلا چلا کر یہ سبق سنا رہی ھے اور اسلامی دنیا کے معاملات بھی اس تاریخ سے کچھ مختلف عندیہ نہیں دے رھے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
انہی معنی میں ھم کہتے ھیں کہ احیاۓ اسلام کا اصل مطلب خیرالقرون کی طرف مسلسل مراجعت ھے، اسکے علاوہ احیاۓ اسلام کا کوئ دوسرا معنی نہیں۔ جدید معروضی تناظر میں وضع کیا جانے والا احیاۓ اسلام کا ہر معنی اسلام کو تنویری تاریخ، علمیت و تہذیب میں ضم کردینے کا ھم معنی ھے۔
غربت، افلاس، عدم مساوات، استحصال اور سرمایہ داری کا باہمی تعلق ۔۔۔۔۔ جدید ذھن کا المیہ کہ وہ جدید دور کو قرون اولی سے بہتر سمجھ رھا ھے
Posted by
Unknown
آج دنیا میں جس پیمانے پر غربت، افلاس، عدم مساوات و استحصال پایا جاتا ھے اسکی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس قدر بڑے پیمانے پر پائے جانے والی غربت، افلاس و عدم مساوات کوئی حادثہ نہیں بلکہ غالب سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم کا منطقی نتیجہ ھے۔ مگر جدید انسان کا المیہ یہ ھے کہ یہ ایک ایسے نظام کو جو انسانیت کی ایک عظیم اکثریت کو ظلم کی چکی میں پیس رھا ھے اس پرفدا ھوا چلا جارھا ھے اور اسے ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے بیٹھا ھے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جدید دور کو انسانی تاریخ کا بہترین دور بھی گردانتا ھے۔
سرمایہ داری اور غربت و افلاس کے اس تعلق کی چند بنیادی وجوھات ہیں:
1) مارکیٹ نظم معاشرے کی روایتی اجتماعیتوں کو تحلیل کرکے معاشرتی زندگی کو فرد پر منتج (individualize) کردیتا ھے، یوں عمل صرف انفرادی ھوجاتا ھے
2) مارکیٹ نظم میں ایک فرد کا کل پیداوار میں حصہ اس بنیاد پر متعین ھوتا ھے کہ وہ نفع خوری پر مبنی پیداواری عمل میں کتنا اضافہ کرنے (نیز اس پر سودے بازی) کی کتنی صلاحیت رکھتا ھے۔ مارکیٹ صرف مستعد (efficient) لیبر ہی کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ھے
3) نفع خوری پر مبنی مارکیٹ نظم کا پابند پیداواری نظام ذرائع کو انہی اشیاء کی پیداوار کیلئے استعمال کرتا ھے جن سے حصول نفع ممکن ھو، لہذا مارکیٹ نظم معاشرے کے اسی طبقے کی خواہشات و ترجیحات کی تسکین کا سامان پیدا کرتا ھے جو زیادہ قیمت ادا کرنے لائق ھوں (مثلا یہ نظام ہر سال امریکی و یورپی عوام کے کتوں اور بلوں یعنی پیٹس (pets) کیلئے اربوں ڈالرز کے کھلونے پیدا کرتا ھے مگر افریقہ اور ایشیا کے غریبوں کیلئے گندم نہیں)
4) سرمایہ دارانہ ریاست چونکہ سرمائے کی باجگزار ریاست ھوتی ھے لہذا وہ ایسی پالیسیاں مرتب کرتی ھے جس سے سرمایہ بڑی بڑی کارپوریشنز، صنعتوں اور شہروں میں مرتکز ھوتا چلا جائے
ان سب کے درج ذیل نتائج نکلتے ھیں:
1) آبادی کی وہ اکثریت جو efficient نہ ھونے کی بنا پر مارکیٹ کا حصہ نہیں بن پاتی انکے روزگار کے مواقع ناپید ھوجاتے ہیں، مارکیٹ نظم اور سرمایہ دارانہ ریاست ذرائع کے عظیم ترین حصے کو بڑے شہروں میں منتقل کردیتی ھے (اور جس کا حصہ بننے کی کوشش میں روایتی اجتماعیتیں تحلیل ھوجاتی ہیں)، یوں معاشی و معاشرتی ناہمواری کو فروغ ملتا ھے
2) عمل صرف کے انفرادی ھونے نیز خاندان اور روایتی اجتماعیتوں کی حفاظت نہ ھونے کی بنا پر یہ عظیم اکثریت غربت و افلاس کا شکار ھوگئ۔ روایتی مذہبی معاشروں میں عمل صرف ہمیشہ اجتماعی (خاندان کے لیول پر مبنی) رھا، یعنی خاندان یا قبیلہ جتنی دولت پیدا کرتا عمل صرف کے لئے سب اس میں یکساں حصہ دار سمجھے جاتے۔ اسکی جھلک ہمارے موجودہ محدود تصور خاندان (میاں بیوی اور بچے) میں بھی موجود ھے کہ گھر کے کمانے والوں (مثلا باپ یا بڑا بھائی) اور نہ کمانے والوں کا معیار زندگی یکساں ھوتا ھے، ایسا نہیں ھوتا کہ باپ تو مرغ کھاتا ھے مگر بچے دال
3) چونکہ لوگوں کی پیداواری اور سودے بازی کی صلاحیتوں میں تفاوت ھوتا ھے لہذا سرمایہ دارانہ معاشروں میں تقسیم دولت میں بھی زبردست عدم مساوات پائی جاتی ھے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک خودکار نظام کی طرح بڑھتی چلی جاتی ھے (جو لوگ ایک سائیکل میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ efficient ھوتے ہیں دوسرے سائیکل میں ان دونوں کا فرق بڑھنا لازم بات ھے)
4) ان معاشروں میں سیاسی و سماجی قوت بھی اسی طبقے کے ہاتھ میں مرتکز ھوجاتی ھے جسکے ذریعے یہ پالیسی سازی پر اثر انداز ھوتا ھے۔ یوں کارپوریشنز اور بڑے کاروباری طبقے کے ہاتھ کروڑوں مزدوروں کے استحصال کی قوت آجاتی ھے
درحقیقت غربت، افلاس، استحصال اور سرمایہ داری کا چولی دامن کا ساتھ ھے، یہ ھوہی نہیں سکتا کہ دنیا میں سرمایہ داری عام ھو مگر غربت، افلاس اور استحصال میں اضافہ نہ ھو۔ سرمایہ داری قائم ہی ظلم و بربریت پر ھوتی ھے، یہی اسکی تاریخ ھے۔ مگر اس رویے کا کیا کیا جائے کہ جدید مسلم مفکرین نہ صرف یہ کہ اس دور کو کسی معنی میں قرون اولی سے برتر سمجھ رھے ھیں بلکہ اسی کے اندر اور اسی کے تناظر میں اسلام کی 'قابل عمل' تشریح کرنے کا خواہش مند بھی ھیں۔
پھر یہ تماشا بھی دیکھئے کہ ایک ایسا نظام جو ''عملا'' انسانی تاریخ کی بدترین عدم مساوات و معاشرتی ناہمواری کو فروغ دیتا رھا اور دے رھا ھے جدید ذھن اسکے 'فروغ مساوات' کے ''اصول'' پر اس قدر راسخ یقین رکھتا ھے کہ اسی نظام کے فروغ سے اس وعدے کی تعبیر کی امید لگائے بیٹھا ھے۔
اسے کہتے ہیں ''ایمان'' جو نظام کا جبر عام لوگوں میں پیدا کرتا ھے۔ جو مفکرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس نظام کو ختم کئے بغیر عوام الناس کو جوق در جوق اسلام کی طرف راغب کرنا ممکن ھے وہ خیالی جنت میں رھتے ہیں۔
Friday, October 11, 2013
نظام کی تسخیری قوت اور سائنسی علمیت پر اندھے اعتماد پر مبنی تصورات ۔۔۔۔۔۔ 'یہاں مکمل اور حتمی متبادل کوئی نہیں پوچھتا'
Posted by
Unknown
عام بلکہ 'جدید تعلیم یافتہ' لوگوں کا خیال یہ ھوتا ھے کہ شاید اختلافات مذہبی لوگوں کا شیوا ھے، یہ سائنس دان تو گویا متفق الخیال ھی ھوتے ہیں اور سب کے منہ سے ایک ہی پالیسی کی بات نکلتی ھوگی نیز یہ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کیلئے کبھی سیاسی قوت حاصل کرنے اور مخالفین کو دبانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ چونکہ انکے خیال میں ان سائنس دانوں کے پاس حق معلوم و متعین کرنے کا کوئ زبردست پیمانہ و طریقہ موجود ھوتا ھے لہذا پورے ملک و قوم کے فیصلے انکے محفوظ ھاتھوں میں تھما دینا ہی عقل کا تقاضا ھے۔ درحقیقت یہ تمام تصورات سائنسی علم کی ماھیت اور اس کے طریقہ کار سے ناواقفیت اور اس پر اندھے اعتماد کا نتیجہ ہیں۔
اس اعتماد کی بنا پر موجودہ نظام میں کروڑوں اربوں لوگوں کی قسمت کا فیصلہ سوشل سائنسز کے ماہرین پر چھوڑ دیا جاتا ھے اس امید پر کہ یہ انسانیت کی ڈوبتی نیا پار لگا کر ہی رہیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ یہ ماہرین کبھی کسی معاشرتی امر کی توجیہہ و تفہیم اور اس کے حل پر متحد الخیال نہیں ھوتے، اتنا ہی نہیں بلکہ انکے درمیان اس معاملے پر اتفاق ناممکن ھوتا ھے جسکی وجہ یہ ھے انکے مختلف فرقوں (جنہیں یہ 'سکول آف تھاٹس' کہتے ھیں) کے بنیادی مفروضات ہی میں اختلاف ھوتا ھے۔ مثلا ماہرین علم معاشیات کے درمیان اس امر پر کوئ اتقاف نہیں ھوپاتا کہ مارکیٹ نظم کساد بازاری کا شکار کیوں رھتا ھے اور یہ بزنس سائیکلز کیوں آتے ھیں۔ چنانچہ کلاسیکل، کنیزین، نیوکلاسیکل و نیو کنیزین، رئیل بزنس سائیکل تھیورسٹ، مارکسسٹ، پوسٹ کینزین وغیرھم ہر کسی کی اس بارے میں اپنی ایک راۓ ھے، چونکہ ان میں سے ہر ایک کے مفروضات دوسرے سے مختلف ہیں لہذا یہ کبھی متفق الرائے نہیں ھوسکتے، نتیجتا ان میں اس امر پر بھی کوئ اتفاق نہیں ھوپاتا کہ اس کساد بازاری کا درست حل کیا ھے۔ پالیسی سازاداروں پر جسکا سیاسی زور چلتا ھے وہ اپنے نظرئیے سے ھم آھنگ پالیسیاں معیشت پر مسلط کرکے کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو اپنے نظریات کی سچائ ثابت کرنے کیلئے تختہ مشق بنادیتا ھے۔ اگر تجربے کے نتیجے میں نظرئیے کے حق میں کوئی دلیل ھاتھ آگئی (جو نکال لانا یہاں کوئی مشکل امر نہیں ھوتا) تو فبہا، بصورت دیگر کوئی اور تھیوری چلا کر دیکھ لیتے ہیں۔
مگر ان کروڑوں انسانوں کا کیا جاۓ جنہیں اس تجربہ گاہ کے ناکام نتائج بھگتنا پڑتے ھیں؟ اول تو یہ سوال کوئی اٹھاتا ہی نہیں، اسی لئے یہ ماہرین کبھی عدل کے کٹہرے میں بلاۓ ہی نہیں جاتے۔ کیوں؟ اس مفروضے پر کہ یہ پوری علمی دیانت کے ساتھ 'انسانیت کی بھلائی' پر مامور ہیں لہذا ان سے سوال کرنا علم کی توہین ھے، انکی غلطیوں کو 'اجتہادی غلطی' سمجھو کہ انہیں کم از کم علم کی خدمت کرنے کا اجر ضرور ملتا ھے (اور اس اجر کا زیادہ اثر ان ماہرین کی 'جیبوں' پر پڑتا ھے جو ان تجربات کے دوران خاصی بھاری ھوجاتی ھیں)۔ ان کروڑوں انسانوں کے سوال کو بس نظر انداز کردیا جاتا ھے اس امیدپر کہ اگلا تجربہ کامیاب ھوگا (اگرچہ یہ پہلے سے معلوم ھوتا ھے کہ اسکے درست ھونے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں) اور اس سے سب کو فائدہ پہنچنے کی امید ھے (اور یہ نہ ختم ھونے والا سلسلہ یوں چلتا رھتا ھے)۔
دیکھئے یہاں کوئی مکمل اور حتمی متبادل نہیں مانگتا، نہ ہی ان ماہرین سے کہتا ھے کہ پہلے تم ثابت کرو کہ جو تم کہہ رھے ھو وہ درست ھے پھر ھم تمہاری بات ماننے پر غور کریں گے، عمل کرنا اور تمہیں فیصلے کرنے کی قوت دے دینا تو بعد کی بات ھے۔ اس کے برعکس یہاں چند امیدوں (وہ بھی ایسی جن پر سینکڑوں سال سے پانی پھر رھا ھے) کی بنیاد پر کروڑوں اربوں انسانوں کا مستقبل نہایت اطمینان کے ساتھ داؤ پر لگا دیا جاتا ھے۔
ذرا سوچئے کہ ان علوم کے اس قدر بنیادی اختلافات، تضادات اور کمزوریوں کے باوجود اس نظام میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی زندگیوں کے فیصلے ان ماہرین کی حوالے کیوں کردئیے گئے ہیں اور لوگ بھی بالکل مطمئن ھیں؟ اسے کہتے ہیں 'نظام کی تسخیری قوت' اور 'ڈسکورس کا جبر'، جو لوگوں کا نظام پر ایمان بناتا اور قائم رکھتا ھے۔ جو لوگ نظام کی بحث سے سہو نظر کرتے یا اسے غیر متعلقہ سمجھتے ہیں انہیں اسکی تسخیری قوت کا ادراک ہی نہیں۔ ایسے لوگ اپنی قلت بینائی کو چیزوں کے عدم وجود کی دلیل سمجھتے رھتے ہیں اور جو ان چیزوں کے وجود کا دعوی کرے انہیں یہ احمق سمجھتے رھتے ہیں۔ جبکہ فی الحقیقت یہ خود احمقوں کی دنیا میں بستے ھیں۔
علم معاشیات کا تصور انفرادیت و عقلیت
Posted by
Unknown
علم معاشیات تنویری ڈسکورس سے نکلنے والا وہ شعبہ علم ھے جس کا مقصد سرمایہ دارانہ معاشرتی و ریاستی نظم کا علمی جواز دینا نیز اسے قائم رکھنے کیلئے پالیسی فریم ورک فراھم کرنا ھے۔ یہ کسی آفاقی انسانی رویے یا سچائیوں سے نہیں بلکہ اس مخصوص تصور انفرادیت کے رویے سے بحث کرتی ھے:
- جو خود کو خود مختار اور آزاد ھستی سمجھتی ھے
- یہ آزاد ہستی خود کو ایک ایسی خود غرض انفرادیت سمجھتی ھے جسکی غرض کی تعیین کا پیمانہ خود اسکا نفس ھے، اسکے علاوہ ہر پیمانے (وحی، روایت، خاندان، پیر وغیرہ) کو یہ رد کرتی ھے
- اسکا نفس اسے بتاتا ھے کہ اسکی اصل غرض اپنی لامحدود خواھشات کی تکمیل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لذت کا حصول ھے
لذت پرستی کے اس انفرادی تعقل اور روحانیت کی بنیاد پر علم معاشیات عقلمند فرد کا رویہ کچھ یوں بیان کرتی ھے کہ اسکی چوائسز دو چیزوں سے متاثر ھوتی ھیں: اولا اسکی خواھشات و میلانات (جو یہ بتاتی ہیں کہ وہ کرنا چاھتا کیا ھے)، دوئم اسکی یہ صلاحیت کہ وہ سرمائے میں اضافے پر مبنی پیداواری عمل میں شرکت کے ذریعے کتنا سرمایہ جمع کرتا ھے (جو یہ بتاتی ھے کہ وہ کرسکتا کیا ھے)۔ ان دونوں (کرنا چاہتا کیا ھے اور کر سکتا کیا ھے) کے ملاپ سے اسکی چوائس (کہ وہ کرتا کیا ھے) متعین ھوتی ھے۔ اس پورے تجزئیے کا مقصد اس جدید 'عقلمند' انفرادیت کے اندر یہ ایمان راسخ کرنا ھے کہ اگر تم زیادہ لذت کا حصول چاھتے ھو تو تمہاری زندگی کا مقصد زیادہ سرمایہ جمع کرنا ھونا چاھئے کہ اسی طرح تم زیادہ لذات کی تسکین کے مکلف بنتے ھو۔ حصول سرمایہ ہی آزادی کی عملی تجسیم (concrete form) ھے، آزادی میں اضافہ ناپنے کا اسکے سواء دوسرا کوئی معین پیمانہ موجود نہیں۔ درحقیقت حصول سرمائے کے بغیر آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ سرمایہ دارانہ نظم فروغ لذات کیلئے جو بے شمار اشیاء پیدا کرتا ھے حصول لذت کیلئے فرد کو اسے خریدنا پڑتا ھے جسکے لئے سرمایہ ناگزیر ھے۔ سرمائے میں اضافہ کرنے کی اسی جدوجہد کو علم معاشیات عقلمندی کا پیمانہ قرار دیتی ھے۔
سرمائے میں عمومی اضافے کی اس جدوجہد کو فروغ دینے کیلئے حرص و حسد کی روحانی کیفیات سے مغلوبیت کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جب تک دماغی عقل حرص و حسد کی قلبی کیفیات سے مغلوب نہیں ھوگی دماغی عقل ترقی (سرمائے میں اضافے) کے طریقوں کی نشاندہی نہیں کرسکے گی۔ لہذا علم معاشیات اس بات کا اقرار کرتی ھے کہ عقلمند صارف حریص (non-satiated/greedy/
عید قربان پر ایک لایعنی اعتراض
Posted by
Unknown
''ہر سال لاکھوں بے زبان جانوروں کی گردنوں پر مذھب کے نام کی چھریاں چلا
کر عقائد کے فریضے ادا کرنے سے تو کہیں بہتر اس رقم سے فاقوں سے مرتی لب دم
انسانیت کا پیٹ بھرنا ھے''۔
درج بالا جملہ جدیدیت ذدہ مذھب دشمن ذہنیت کی عکاسی ھے جسے مذھب کا اظہار کرنے والی ہر رسم سے چڑ ھے۔ مگر درج بالا قسم کی باتیں اس جدید ذہنیت کی علمیت نہیں بلکہ عقلی افلاس کا شاخسانہ ھے۔ گو کہ ھم مسلمان عبادات کے معاشی فوائد دیکھنے کے قائل نہیں کہ یہ ذہنیت عبادت کی روح ہی مجروح کردیتی ھے مگر مخالف ذہنیت کی تسلی کیلئے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔
اگر قربانی کی رسم کو خالصتا معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس پر اعتراض صرف وہی شخص کرسکتا ھے جس نے علم معاشیات کبھی نہ پڑھی ھو۔ مثلا (1) اسکے نتیجے میں آپ کے ملک میں فارمنگ اور کیٹل انڈسٹری نمو حاصل کرتی ھے جس سے بالعموم چھوٹا کسان یا غریب طبقہ ہی منسلک ہوتا ھے اور عید قربان پر اسے اپنی محنت کا اچھا مول مل جاتا ھے جو عام مارکیٹ میں نہیں مل پاتا یوں یہ رسم تقسیم دولت پر مثبت اثرات ڈالتی ھے، (2) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام رقم ویسے ہی غریبوں کو دے دی جائے وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ غربت کا علاج پیسے بانٹنا نہیں بلکہ غریب طبقے کیلئے معاشی ایکٹیویٹی کا پہیہ چلانا ھوتا ہے اور قربانی کا عمل اسکا بہترین ذریعہ ھے، (3) پھر ان جانوروں کا گوشت دنیا بھر کے غریبوں میں بانٹا جاتا ھے اور معاشرے کا وہ طبقہ بھی گوشت کھاتا ہے جو پورا سال صرف اسکا خواب ہی دیکھتا ھے، (4) پھر ان جانوروں سے جو کھال حاصل ھوتی ھے اس سے لیدر پراڈکٹس بنتی ہیں جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ھوتا ھے، (5) پھر ذرائع نقل و حمل سے منسلک لوگ بھی ان دنوں کے دوران جانوروں کی ترسیل کے کاروبار کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ الغرض عید قربان چند دنوں کے دوران اربوں روپے کی خطیر مگر بے کار بچتوں کو سیال مادے میں تبدیل کرکے معاشی پہیہ تیز کرنے کا باعث بنتی ھے۔ جو لوگ علم معآشیات میں کینز (Keynes) کے ملٹی پلائیر (multiplier) کے تصور سے واقف ہیں کم از کم وہ تو عید قربان پر معاشی نقطہ نگاہ سے لب کشائی کی جرات نہیں کرسکتے۔
پھر اس جدید ذھن کی حالت یہ ھے کہ اسے غریبوں کا خیال صرف عید قربان پر خرچ ھونے والی رقم کے وقت ہی آتا ھے جو کہ ہر لحاظ سے غریب دوست رسم ھے۔ البتہ اسے ان کھربوں روپے کا ضیاع دکھائی نہیں دیتا جو ہر روز امیر لوگ پیزوں اور مہنگے برگروں پر اڈا دیتے ہیں، ان کھربوں ڈالرز کے ضیاع پر یہ کبھی انگلی نہیں اٹھاتے جو یورپ اور امریکہ میں پیٹس (pets) (کتوں بلوں) کے کھلونے بنانے میں خرچ ھوتے ہیں، ان کھربوں ڈالر کے ضیاع پر کسی کو تکلیف نہیں ھوتی جو ہر سال کاسمیٹکس انڈسٹری میں جھونک دئیے جاتے ہیں اور جنکا مقصد اس کے سواء اور کچھ نہیں کہ میں زیادہ دنوں تک جوان نظر آؤں۔ الغرض آپ اپنے اردگرد غور کیجیے کہ ٹریلین ڈالرز کے ان بیش قیمت ذرائع کے بے دریغ ضیاع پر تو یہ جدید لوگ کبھی اعتراض نہیں کریں گے جو اپنی نوعیت میں غریب کے جذبات کچل دینے والے اخراجات ہیں اور جنکا مقصد امیروں کے چند ''لطیف احساسات'' کی تسکین کے سواء اور کچھ نہیں ھوتا، مگر عید قربان کے موقع پر یہ غریب کے کچھ ایسے حمایتی بن جاتے ہیں گویا ان سے بڑا غریب پرور آج تک پیدا ہی نہیں ھوا۔ درحقیقت ان لوگوں کا اصل مسئلہ غریب پروری نہیں بلکہ مذہب دشمنی ھے جس کیلیے یہ ہر موقع کا بےموقع استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔
پھر یہ پہلو بھی قابل دید ھے کہ یہ جدید ذھن ''جانوروں کے بے زبان'' ھونے کا محاورہ پیش کرکے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ھے گویا قربانی کا عمل جانوروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا مظہر ھے۔ مگر جب مہنگے ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر یہ سجیاں، کباب، تکے، کڑھایاں الغرض مزے مزے کی بار بی کیوز کھا رھا ہوتا ہے اس وقت نجانے اسکا یہ احساس ظلم کہاں چلا جاتا ھے؟ کیا ان لذیذ ڈشز میں استعمال ھونے والا گوشت من و سلوی کی طرح آسمانوں سے نازل ھوتا ہے یا وہ قصائیوں کے مذبح خانوں سے فراہم ھوتا ھے؟ الغرض ان جدید لوگوں کی کوئی بات ایسی نہیں جو عقل و دانش کے پیمانے پر پوری اترتی ھو۔
مکمل تحریر >>
درج بالا جملہ جدیدیت ذدہ مذھب دشمن ذہنیت کی عکاسی ھے جسے مذھب کا اظہار کرنے والی ہر رسم سے چڑ ھے۔ مگر درج بالا قسم کی باتیں اس جدید ذہنیت کی علمیت نہیں بلکہ عقلی افلاس کا شاخسانہ ھے۔ گو کہ ھم مسلمان عبادات کے معاشی فوائد دیکھنے کے قائل نہیں کہ یہ ذہنیت عبادت کی روح ہی مجروح کردیتی ھے مگر مخالف ذہنیت کی تسلی کیلئے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔
اگر قربانی کی رسم کو خالصتا معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس پر اعتراض صرف وہی شخص کرسکتا ھے جس نے علم معاشیات کبھی نہ پڑھی ھو۔ مثلا (1) اسکے نتیجے میں آپ کے ملک میں فارمنگ اور کیٹل انڈسٹری نمو حاصل کرتی ھے جس سے بالعموم چھوٹا کسان یا غریب طبقہ ہی منسلک ہوتا ھے اور عید قربان پر اسے اپنی محنت کا اچھا مول مل جاتا ھے جو عام مارکیٹ میں نہیں مل پاتا یوں یہ رسم تقسیم دولت پر مثبت اثرات ڈالتی ھے، (2) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام رقم ویسے ہی غریبوں کو دے دی جائے وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ غربت کا علاج پیسے بانٹنا نہیں بلکہ غریب طبقے کیلئے معاشی ایکٹیویٹی کا پہیہ چلانا ھوتا ہے اور قربانی کا عمل اسکا بہترین ذریعہ ھے، (3) پھر ان جانوروں کا گوشت دنیا بھر کے غریبوں میں بانٹا جاتا ھے اور معاشرے کا وہ طبقہ بھی گوشت کھاتا ہے جو پورا سال صرف اسکا خواب ہی دیکھتا ھے، (4) پھر ان جانوروں سے جو کھال حاصل ھوتی ھے اس سے لیدر پراڈکٹس بنتی ہیں جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ھوتا ھے، (5) پھر ذرائع نقل و حمل سے منسلک لوگ بھی ان دنوں کے دوران جانوروں کی ترسیل کے کاروبار کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ الغرض عید قربان چند دنوں کے دوران اربوں روپے کی خطیر مگر بے کار بچتوں کو سیال مادے میں تبدیل کرکے معاشی پہیہ تیز کرنے کا باعث بنتی ھے۔ جو لوگ علم معآشیات میں کینز (Keynes) کے ملٹی پلائیر (multiplier) کے تصور سے واقف ہیں کم از کم وہ تو عید قربان پر معاشی نقطہ نگاہ سے لب کشائی کی جرات نہیں کرسکتے۔
پھر اس جدید ذھن کی حالت یہ ھے کہ اسے غریبوں کا خیال صرف عید قربان پر خرچ ھونے والی رقم کے وقت ہی آتا ھے جو کہ ہر لحاظ سے غریب دوست رسم ھے۔ البتہ اسے ان کھربوں روپے کا ضیاع دکھائی نہیں دیتا جو ہر روز امیر لوگ پیزوں اور مہنگے برگروں پر اڈا دیتے ہیں، ان کھربوں ڈالرز کے ضیاع پر یہ کبھی انگلی نہیں اٹھاتے جو یورپ اور امریکہ میں پیٹس (pets) (کتوں بلوں) کے کھلونے بنانے میں خرچ ھوتے ہیں، ان کھربوں ڈالر کے ضیاع پر کسی کو تکلیف نہیں ھوتی جو ہر سال کاسمیٹکس انڈسٹری میں جھونک دئیے جاتے ہیں اور جنکا مقصد اس کے سواء اور کچھ نہیں کہ میں زیادہ دنوں تک جوان نظر آؤں۔ الغرض آپ اپنے اردگرد غور کیجیے کہ ٹریلین ڈالرز کے ان بیش قیمت ذرائع کے بے دریغ ضیاع پر تو یہ جدید لوگ کبھی اعتراض نہیں کریں گے جو اپنی نوعیت میں غریب کے جذبات کچل دینے والے اخراجات ہیں اور جنکا مقصد امیروں کے چند ''لطیف احساسات'' کی تسکین کے سواء اور کچھ نہیں ھوتا، مگر عید قربان کے موقع پر یہ غریب کے کچھ ایسے حمایتی بن جاتے ہیں گویا ان سے بڑا غریب پرور آج تک پیدا ہی نہیں ھوا۔ درحقیقت ان لوگوں کا اصل مسئلہ غریب پروری نہیں بلکہ مذہب دشمنی ھے جس کیلیے یہ ہر موقع کا بےموقع استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔
پھر یہ پہلو بھی قابل دید ھے کہ یہ جدید ذھن ''جانوروں کے بے زبان'' ھونے کا محاورہ پیش کرکے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ھے گویا قربانی کا عمل جانوروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا مظہر ھے۔ مگر جب مہنگے ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر یہ سجیاں، کباب، تکے، کڑھایاں الغرض مزے مزے کی بار بی کیوز کھا رھا ہوتا ہے اس وقت نجانے اسکا یہ احساس ظلم کہاں چلا جاتا ھے؟ کیا ان لذیذ ڈشز میں استعمال ھونے والا گوشت من و سلوی کی طرح آسمانوں سے نازل ھوتا ہے یا وہ قصائیوں کے مذبح خانوں سے فراہم ھوتا ھے؟ الغرض ان جدید لوگوں کی کوئی بات ایسی نہیں جو عقل و دانش کے پیمانے پر پوری اترتی ھو۔
Thursday, October 10, 2013
علم معاشیات کی بنیاد ۔۔۔۔۔ مذھب کے خلاف جدید الحاد کو تقویت دینا
Posted by
Unknown
علم معاشیات کے بارے میں ہمارے جدیدیت ذدہ مسلم مفکرین اور ماہرین سوشل سائنسز کا گمان ھے کہ شاید یہ چند آفاقی حقائق اور انسانی رویوں کا مظہر ھے۔ یہ لوگ علم معاشیات کے اس دعوے پر یقین رکھتے ہیں کہ قوانین طلب و رسد پر مبنی مارکیٹ نظم معاشرے میں خود بخود توازن اور ھم آہنگی برقرار رکھنے کا موجب ھے۔ انکا خیال ھے کہ ایڈم سمتھ اور اس جیسے دیگر ماہرین معاشیات نے گویا قوانین طلب و رسد کی صورت میں ایک آفاقی اور مثبت (positive) حقیقت کو دریافت کیا۔
مگر حقیقت یہ نہیں، طلب و رسد پر مبنی خود کار مارکیٹ نظم کا تصور درحقیقت کسی مثبت آفاقی سچائی کی دریافت کے طور پر نہیں بلکہ یورپ میں مذھب کی بنیاد پر ریاستی مداخلت سے گلو خلاصی کیلئے پیش کیا گیا تھا۔ تنویری (enlightenment) مفکرین کے ابتدائی ادوار میں یورپی معاشروں پر بالعموم اور ریاستوں پر جزوا عیسائی عقلیت و علمیت کا غلبہ ھوا کرتا تھا۔ یورپ میں نشات ثانیہ، تحریک اصلاح مذھب اور جدیدیت کے بعد جیسے جیسے مذھب کے خلاف الحاد مضبوط ھوتا چلا گیا، نیز یورپ میں لبرل سرمایہ دار اشرافیہ قوت حاصل کرنے لگی مذھب اور الحاد ذدہ طبقے کے درمیان چپقلش کی بنیادیں گہری ھوتی چلی گئیں۔ یورپ کا آزادی کا دلدادہ سرمایہ دار طبقہ مذھب کی بنیاد پر ریاست کی مداخلت سے سخت نالاں رھتا تھا۔ انکے تمام تر اعتراضات کے باوجود ریاست اپنی اس مداخلت کا جواز یہ پیش کرتی تھی کہ ان اصلاحات کے بغیر معاشرے میں فساد برپا ھوگا اور یہ قائم نہ رہ سکے گا۔ چانچہ یہی وہ موقع ھے جب ایڈم سمتھ جیسے ملحد لوگوں نے یہ تصور پیش کیا کہ معاشرے کے قیام و بقا کیلئے ریاستی مداخلت کی ضرورت ھے ہی نہیں کیونکہ سب سے بہترین معاشرہ تب قائم ھوتا ھے جب آپ لوگوں کو جو وہ کرنا چاہیں کرنے کیلئے مارکیٹ میں آزاد چھوڑ دیں۔ ان لوگوں نے یہ تصور عام کیا کہ حصول ویلفئیر اور قیام معاشرہ کیلئے کسی قسم کی ریاستی مداخلت کی سرے سے ضرورت ھے ہی نہیں بلکہ مارکیٹ اسکا بندوبست خودبخود کردیتی ھے۔ اس پورے معاشی تصور کو پیش کرنے کا مقصد درحقیقت مشاھدے پر مبنی کسی دریافت شدہ آفاقی حقیقت کا بیان نہیں تھا (کیونکہ اس دور میں تو مارکیٹ نظم پر مبنی کوئی معاشرہ کہیں تھا ہی نہیں کہ جسے دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا گیا ھو) بلکہ مذہبی بنیادوں پر ریاست میں مداخلت کا اخلاقی عدم جواز پیدا کرنا تھا۔ ان ماہرین معاشیات کا مقصد مذہبی پالیسیوں کا عدم جواز پیدا کرکے انکی جگہ سرمایہ دارانہ پالیسی سازی کو جواز دینا تھا۔ پس ان ماہرین معاشیات نے سرمایہ دار طبقے کو پوپ کے خلاف ایک علمی دلیل فراھم کردی جس کی بنیاد پر وہ ریاست کی مذہبی مداخلت کی علمی بنیادوں پر مخالفت کرنے لائق ھوگئے۔
ایڈم سمتھ کے دور سے لیکر آج تک علم معاشیات کا بنیادی مقصد یہی بتانا رہا ھے کہ سرمایہ دارانہ (خصوصا مارکیٹ) نظم کس طرح قائم ھوتا ھے اور اسے کس طرح قائم رکھا جاتا ھے۔ اس کے علاوہ اس علم کا دوسرا کوئی مقصد نہیں رہا۔ جو مسلم مفکرین علم معاشیات کو اسلامی تاریخی تصورات کا تسلسل سمجھتے ہیں یا اسکی اسلام کاری کرتے ہیں وہ اس کے تاریخی ارتقاء اور بنیادی عقائد سے عدم واقفیت کا شکار ہیں۔
لبرل، سیکولر و متجددین کی دھری منطق
Posted by
Unknown
فرض کریں اگر روایتی خاندانی معاشرتی نظام کے اندر عورت پر ظلم ھوجائے تو سیکولر، لبرل اور متجددین اسے مولوی کے روایتی اسلام کا شاخسانہ قرار دینے میں ذرا بھر تامل نہیں کرتے اور تقاضا کرتے ہیں کہ تحفظ عورت کیلئے اسے آزادی ملنی چاھئے، مولوی کے اسلام نے اسے جکڑ رکھا ھے۔
اور اگر اس عورت کے ساتھ بدسلوکی (مثلاریپ) ھوجائے جو مارکیٹ میں گھوم رہی ھے اور تحقیق و اعداد و شمار بھی بتا رھے ھوں کہ اسکا تعلق اس آزاد اختلاط کے ساتھ ھے، مگر اس وقت یہ لوگ یہ نتیجہ نہیں ںکالتے کہ یہ آزاد معاشرت کا نتیجہ ھے بلکہ اسکی الٹی سیدھی تاویلیں کرنے لگتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ تقاضا کرنے لگتے ہیں کہ معاشرے میں تمام مردوں کی تربیت کرنے کی ضرورت ھے کہ وہ عورت کے وجود کو عزت کی نظر سے دیکھیں نیز ریاست اس معاملے میں سختی سے کام لے وغیرہ۔
لیکن اس موقع پر سوال پیدا ھوتاھے کہ اگر مرد کی تربیت ہی مسئلے کا حل تھا تو ان چند مردوں کی اسلامی تربیت پر کیوں نہ توجہ دی جائے جو بیوی، بیٹی، ماں اور بہن کے حقوق ادا نہیں کررھے؟ اگر اس مرد کی تربیت کرلی جائے تو کیا عورت خاندانی نظم کے اندر محفوظ نہیں ھوسکتی؟
درحقیقت عورت پر ھونے والے مظالم ایک بہانہ ہیں جس کے ذریعے عورت کی مارکیٹ سازی کے عمل کا جواز پیدا کیا جاتا ھے اور چونکہ یہ عورت کی مارکیٹ سازی انکے نزدیک مطلوب و مقصود ھے لہذا اس مقصد کو بچانے کیلئے پوری دنیا کی تربیت بھی کرنا پڑا، ریاست کو نت نئے قوانین بنانے اور مسلط کرنا پڑیں سب جائز ھے۔ اسے کہتے ہیں مقصد سے کمٹمنٹ، مولوی یہ سب تقاضے کرے تو وہ کند ذھن، یہ کریں تو عقل پرستی۔
غامدی صاحب کے پیش کردہ 'مسائل کے حل' کی نوعیت
Posted by
Unknown
ایک
صاحب دوران گفتگو فرمانے لگے کہ ''غامدی صاحب نھایت ذہین اور قابل انسان
ہیں، انہوں نے جدید دور کے مسلمانوں کے بہت سے مسائل کا حل پیش کیا اور
جدید ذھن اسی لئے ان سے متاثر ھوتا ھے''۔
میں نے عرض کی کہ غامدی صاحب نے جدید تناظر میں موسیقی، مصوری، حجاب، جہاد الغرض سیاسی و معاشرتی نظم کے ہر پہلو پر حل کے نام پر جو بھی کچھ پیش کیا اسے ''مسئلے کا حل'' نہیں بلکہ ''مسئلہ کو فطری سمجھ کر قبول کرلینا (naturalizing, internalizing or adapting to the problem) کہتے ہیں''۔ حل کب اور کہاں پیش کیا انہوں نے؟ چونکہ جدید ذھن کی اٹھان ہی اس خمیر سے ھوئی ھے جو ان مسائل کو فطری سمجھ کر قبول کرتا ھے لہذا غامدی صاحب کی آواز اسے اپنے دل کی آواز محسوس ھوتی ھے اور بس، اس میں انکی علمیت کا کوئی کمال نہیں۔
مکمل تحریر >>
میں نے عرض کی کہ غامدی صاحب نے جدید تناظر میں موسیقی، مصوری، حجاب، جہاد الغرض سیاسی و معاشرتی نظم کے ہر پہلو پر حل کے نام پر جو بھی کچھ پیش کیا اسے ''مسئلے کا حل'' نہیں بلکہ ''مسئلہ کو فطری سمجھ کر قبول کرلینا (naturalizing, internalizing or adapting to the problem) کہتے ہیں''۔ حل کب اور کہاں پیش کیا انہوں نے؟ چونکہ جدید ذھن کی اٹھان ہی اس خمیر سے ھوئی ھے جو ان مسائل کو فطری سمجھ کر قبول کرتا ھے لہذا غامدی صاحب کی آواز اسے اپنے دل کی آواز محسوس ھوتی ھے اور بس، اس میں انکی علمیت کا کوئی کمال نہیں۔
Wednesday, October 9, 2013
مورثی ایمان کی قدروقیمت
Posted by
Unknown
ایمان
کی بے قدری کے اس دور میں اس متاع عظیم کو ہلکا اور خفیف بتانے کیلئے یہ
عجیب و غریب دلیل پیش کی جاتی ھے کہ ''مورثی ایمان کی کوئی اہمیت نہیں، تم
مسلمان کے گھر پیدا ھوگئے اور بس، اس میں تمہارا کیا کمال، اس میں فخر کی
کیا بات؟''
گویا اگر خدا اپنے کسی بندے پر کوئی خاص عنایت اور مہربانی کردے تو اس میں شکر کرنے کی بات ہی کیا ھے، ھے ناں! خدا نے کسی کو آنکھ و کان اور اس جیسی بہت سی نعمتوں سے نوازا اور کسی کو ان سے محروم رکھا، تو کیا جسے یہ نعمتیں ملیں اس کیلئے یہ شکر و سپاس کا مقام نہیں؟ اسی طرح اگر خدا کسی کو اھل ایمان کے گھر پیدا کرکے اس کیلئے قبول ایمان کو سہل بنا کر جنت کا راستہ آسان کردے تو کیا یہ معمولی بات ھے؟ اگر ایمان کی دولت واقعی اس کائنات کی عظیم ترین نعمت ھے، محمد (ص) کا امتی و غلام کہلانا واقعی فخر کی بات ھے تو کیا خدا کی طرف سے ان نعمتوں کا سہل طریقے سے مل جانا سب سے بڑھ کر شکروسپاس کا مقام نہیں؟ تو اسے ہلکا بتانے کا کیا مطلب؟ یہ تو خوشی منانے (سیلیبریٹ کرنے) کی جاہ ھے۔
مکمل تحریر >>
گویا اگر خدا اپنے کسی بندے پر کوئی خاص عنایت اور مہربانی کردے تو اس میں شکر کرنے کی بات ہی کیا ھے، ھے ناں! خدا نے کسی کو آنکھ و کان اور اس جیسی بہت سی نعمتوں سے نوازا اور کسی کو ان سے محروم رکھا، تو کیا جسے یہ نعمتیں ملیں اس کیلئے یہ شکر و سپاس کا مقام نہیں؟ اسی طرح اگر خدا کسی کو اھل ایمان کے گھر پیدا کرکے اس کیلئے قبول ایمان کو سہل بنا کر جنت کا راستہ آسان کردے تو کیا یہ معمولی بات ھے؟ اگر ایمان کی دولت واقعی اس کائنات کی عظیم ترین نعمت ھے، محمد (ص) کا امتی و غلام کہلانا واقعی فخر کی بات ھے تو کیا خدا کی طرف سے ان نعمتوں کا سہل طریقے سے مل جانا سب سے بڑھ کر شکروسپاس کا مقام نہیں؟ تو اسے ہلکا بتانے کا کیا مطلب؟ یہ تو خوشی منانے (سیلیبریٹ کرنے) کی جاہ ھے۔
جدید تعبیرات اسلام کو جانچنے کا سادہ پیمانہ
Posted by
Unknown
اسلام
کی ھر وہ جدید تعبیر، تشریح و تشکیل نوع جس کے اندر جدید تہذیب کی شکست و
ریخت اور قرون اولی کی طرف مراجعت (احیائے اسلام) کا تصور موجود نہ ھو اس
بات کی واضح اور کھلی ھوئی نشانی ھے کہ وہ تعبیر و تشریح مسلمانوں کو
اسلامی تاریخ سے کاٹ کر سرمایہ داری کی تاریخ میں ضم کرکے رھے گی۔۔۔۔ایسا
ھونا اٹل ھے۔۔۔۔۔اسکی وجہ یہ ھے ایسی تشریح کرنے والا مفکر اپنے دور کی
جاھلیت سے ناواقف ھوتا ھے لہذا وہ لازما اسلام کو جاھلیت کے ساتھ ملا کر
رھتا ھے۔ پس ایسی ھر جدید تعبیر و تشریح کے مشکوک و مردود ھونے کیلئے یہی
ایک پیمانہ بہت کافی ھے کہ اس پیمانے نے پچھلے ڑیڑھ سو سال میں آج تک کبھی
غلط نتیجہ نہیں دیا۔
مکمل تحریر >>
'قرون اولی کی طرف مراجعت'' سے وحشت کی وجہ ۔۔۔۔ جدید ڈسکورس کا جبر اور غلبہ دین کی اہمیت
Posted by
Unknown
آج اگر کسی سے کہا جائے کہ ''ھم قرون اولی کی طرف مراجعت چاھتے ہیں کہ یہی ھمارا آئیڈئیل ھے'' تو اس تصور سے اسے وحشت ھونے لگتی ھے اور وہ اسے غیر عقلی و غیر فطری تصور کرتا ھے۔ اسکا مفروضہ یہ ھوتا ھے کہ زمانہ تبدیل ھوتا رھتا ھے اور یہ دعوی کرتے وقت یہ جدید انسان تبدیلی کو کوئی مجرد (abstract) و نیوٹرل و غیر اقداری (value-free) شے سمجھ رھا ھوتا ھے۔ مگر سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اگر تبدیل ھوتے رھنا ہی حقیقت ھے تو جدید طرز زندگی سے قرون اولی کی طرف تبدیلی کیوں نہ کرلی جائے؟ آخر یہ جدید انسان تبدیلی کے اس تصور (قرون اولی کی طرف مراجعت) کو 'بہتری' کے بجائے 'تنزلی' کیوں سمجھتا ھے؟ آخر کیا وجہ ھے کہ حاضروموجود دنیا میں تبدیلی آزادی و ترقی (آج کا غالب ڈسکورس) کیلئے آرہی ھے، کسی اور مقصد کیلئے نہیں؟ اگر تبدیلی برائے تبدیلی کوئی شے ھوتی ھے تو 'قرون اولی کی طرف' کیوں تبدیلی نہیں ھورہی یا کیوں نہ کرلی جائے؟
بات دراصل یہ ھے کہ تبدیلی برائے تبدیلی نامی کوئی شے اس کائنات میں وجود نہین رکھتی، تبدیلی ہمیشہ 'ایک آئیڈئیل کی طرف لائی جاتی' نہ کہ 'خود بخود آجاتی' ھے۔ تنویری ڈسکورس سے نکلنے والی جدید علمیت (و عقلیت) یہ دعوی کرتی ھے کہ تبدیلی آزادی (سرمائے) میں اضافے کیلئے ھونی چاھئے، یہی اسکا مطلوب و مقصود (آئیڈئیل) تصور تبدیلی ھے۔ اس تنویری تصور تبدلی کے مطابق وہ مذہبی قوتیں جو ایسی معاشرت و ریاست کے دفاع و فروغ کی جدوجہد کرتی ہیں جس میں آزاد (سرمائے کی غلام) انفرادیت کے بجائے مذہبی انفرادیت کے پھلنے پھولنے کے امکانات ھوں، وہ anti-social (تہذیب کش) تحریکات ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ آج زمانہ اسی حاضر و موجود اور غالب ڈسکورس (جدید تصور تبدیلی) کی طرف رواں دواں ھے (جس کیلئے اسے وضع کیا گیا تھا)۔ چنانچہ تبدیلی ہمیشہ آئیڈئیل کی طرف آتی ھے، چونکہ جدید انسان نے آزادی و ترقی (یعنی سرمائے میں اضافے) کے آئیڈئیل کو بالعموم قبول کرلیا ھے لہذا تبدیلی اسی جانب آرہی ھے، یہ نہ تو آسمان سے ٹپک رھی ھے اور نہ ہی خود بخود زمین سے اگ رہی ھے بلکہ اس کیلئے ایک نہایت پیچیدہ ادارتی صف بندی وضع کی گئی ھے جو ایک خود کار نظام کی طرح کروڑوں انسانوں کو تبدیلی کے اس عمل میں کولہو کے بیل کی طرح جوت رہی ھے۔
پس جدید انسان کی قرون اولی کی طرف مراجعت سے وحشت کی وجہ اس تصور تبدیلی کا کسی قانون فطرت یا عقل کے خلاف ھونا نہیں بلکہ جدید علمی و تہذیبی ڈسکورس کا فرد پر زبردست جبر ھے۔ جیسے جیسے لوگ ان جدید (جاہلی) اقدار (آزادی و ترقی) کو رد کرتے چلے جائیں گے، جیسے جیسے یہ جدید ادارتی صف بندی تہس نہس کا شکار ھوکر تحلیل کردی جائے گی، ویسے ویسے عام انسان کو قرون اولی کی طرف مراجعت کا تصور بھی فطری و عقلی محسوس ھونے لگے گا۔ 'عوام' کے تصورات عقل و فطرت کا ماخذ حاضروموجود غالب ڈسکورس ہی ھوا کرتا ھے۔ اسی لئے موجودہ جاہلی تہذیب کو رد کرکے غلبہ دین کی جدوجہد لازم و بنیادی ھے کہ اسکے بغیر چند نفوس کی اصلاح اور انہیں اس جبر سے بچا لیجانا تو ممکن ھے مگر اسلامی تصورات فطرت و عقل کا عوامی فروغ ممکن نہیں۔
پھر آئیڈئیل میں اھم بات یہ نہیں ھوتی کہ آپ کو وہ پورا کا پورا حاصل ھوچکا یا نہیں، بلکہ یہاں اھم بات یہ ھوتی ھے کہ تبدیلی اسکی جانب ھورہی ھے یا اسکے خلاف، یہ گویا پالیسی ویرئیبل ھوتا ھے جو عمل و تبدیلی کی جہت متعین کرتا ھے۔ یہاں یہ سوال بھی اھم نہیں ھوتا کہ آئیڈئیل پورا کا پورا حاصل ھونا ممکن بھی ھے یا نہیں، بلکہ اھم بات یہ ھوتی ھے کہ ھم اسے 'کتنا حاصل کرسکے'۔ ظاھر ھے اس دنیا میں آئیڈئیل کبھی بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ھوسکتا بلکہ وہ تو حاصل ھوتا رھتا ھے، اسکی مثال یہ ھے کہ جیسے انفرادی حیثیت میں ہر مسلمان کیلئے آئیڈئیل نمونہ رسول یا صحابہ کا طرز عمل اختیار کرلینا ھے، مگر ظاھر ھے کوئی بھی انسان نہ تو رسول بن سکتا ھے اور نہ ہی صحابی بلکہ وہ ایسا بنتا رھنا چاھتا ھے اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ٹٹولتا ھے کہ کتنا اپنے آئیڈئیل سے قریب ھوپایا۔ پس جتنا کوئی دور قرون اولی کی طرف مراجعت کرچکا یا کرلے گا اتنا ہی اعلی و ارفع کہلائے گا اور جو اس معیاری دور سے جتنا دور ھے وہ اتنا ہی کمتر ھے۔ ہماری جدوجہد کی بنیاد یہ ھے کہ دنیا کو جتنا ممکن ھوسکے ویسا ہی بنادیا جائے جیسی سرکار (ص) کے زمانے میں تھی، یعنی انفرادیت، معاشرت و ریاست کا بہترین نمونہ وہ ھے جسے خود سرکار (ص) نے 'خیرالقرون قرنی' کہا نہ کہ موجودہ جاہلی دور۔
جدید مسلم ذھن کے دھرے پیمانے
Posted by
Unknown
جدید مسلم ذھن کی غلامی کا یہ عجب حال ھے کہ اگر امریکہ اور پورپی اقوام
کی سفاکیت کی پول کھولی جائے تو اسے نجانے کیوں ناگواری ھونے لگتی ھے۔
تاریخ کے بدترین استعمار کی سسٹمیٹک نسل کشی اور لوٹ مار (کہ جسکی کوئی
مثال ماضی میں نہیں ملتی) کو یہ ماضی کے چند برے قسم کے حکمرانوں کے مظالم
کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرنے لگتا ھے (مثلا یہ کہے گا کہ ''مسلمانوں میں
بھی بہت سے برے حکمران گزرے ہیں، سپر پاور
ایسا ھی کرتی ھے، وغیرہ'')۔ ایسا کہتے وقت یہ ذھن بڑی معصومیت کے ساتھ یہ
فرض کرلیتا ھے گویا مسلمانوں کی خلافتیں بھی شاید اسی طرح استحصال اور نسل
کشی پر قائم ہوتی رھی ھونگی، مسلمان بھی اسی طرح لوٹ کھسوٹ سے کام لیتے
ھونگے اور شاید دنیا میں ایسا ہی ھوتا رھا ھوگا۔
اس پر بھی غور کیجئے کہ ان ذہین جدید لوگوں کو بادشاھوں کے مظالم تو ''نظم ملوکیت'' کا شاخسانہ نظر آتے ہیں اور اس وجہ سے یہ ملوکیت سے سخت نالاں ھونگے مگر جمہوری استعمار کی نسل کشی بھی انہیں چند جمہوری حکمرانوں کی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں، فیاللعجب۔ قرآن نے اسی رویے کو 'مطففین' (لینے اور دینے کے پیمانوں کا فرق کرنے والوں) سے تعبیر کیا ھے۔ انسانی تاریخ میں جمہوریت کے دامن پر جتنے انسانوں کی قتل و غارت گری، استحصال اور لوٹ کھسوٹ کے داغ ہیں پوری انسانی تاریخ میں ان سے زیادہ بدنما داغ کسی اور نظم اجتماعی کے دامن پر نہیں ملیں گے۔ مگر یہ جدید مسلم ذھن پھر بھی اسی پر فدا ھوا چلا جا رہا ھے، اتنا ہی نہیں قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر یہ ثابت کررھا ھے کہ خدا کا ازلی ارادہ بھی ایسا ہی (سفاکانہ) نظام قائم کرنا رھا ھے۔
مکمل تحریر >>
اس پر بھی غور کیجئے کہ ان ذہین جدید لوگوں کو بادشاھوں کے مظالم تو ''نظم ملوکیت'' کا شاخسانہ نظر آتے ہیں اور اس وجہ سے یہ ملوکیت سے سخت نالاں ھونگے مگر جمہوری استعمار کی نسل کشی بھی انہیں چند جمہوری حکمرانوں کی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں، فیاللعجب۔ قرآن نے اسی رویے کو 'مطففین' (لینے اور دینے کے پیمانوں کا فرق کرنے والوں) سے تعبیر کیا ھے۔ انسانی تاریخ میں جمہوریت کے دامن پر جتنے انسانوں کی قتل و غارت گری، استحصال اور لوٹ کھسوٹ کے داغ ہیں پوری انسانی تاریخ میں ان سے زیادہ بدنما داغ کسی اور نظم اجتماعی کے دامن پر نہیں ملیں گے۔ مگر یہ جدید مسلم ذھن پھر بھی اسی پر فدا ھوا چلا جا رہا ھے، اتنا ہی نہیں قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر یہ ثابت کررھا ھے کہ خدا کا ازلی ارادہ بھی ایسا ہی (سفاکانہ) نظام قائم کرنا رھا ھے۔
سرمایہ داری کیوں غالب آئی؟ ۔۔۔۔۔ سرمایہ داری کے خلاف اسلام کا مقدمہ
Posted by
Unknown
جواز و غلبہ سرمایہ داری کیلئے مغربی مفکرین کے یہاں بالعموم دو نظریات پاۓ جاتے ہیں۔
1) سرمایہ داری فطری اور اسی لئے عقلی نظم ھے (capitalism is natural and hence rational): یہ تعبیر بالعموم انفرادیت پسند لبرل تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے نزدیک سرمایہ داری (حصول آزادی و ترقی) انسانی فطرت کا واحد اور جائز اظہار ھے ان معنی میں کہ اگر انسان کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ تو وہ اپنی مرضی سے صرف اسی نظم کو اختیا رکرے گا۔ اگر ان مفکرین سے یہ سوال پوچھا جاۓ کہ اگر واقعی یہ فطری نظم ھے تو سترھویں صدی سے قبل یہ نظام کیوں کسی انسانی تہذیب میں نہیں پایا گیا؟ تو اسکے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ''enlightenment تو سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں آئی نا، یعنی انسان سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں'ھیومن' بن کر علم و حقیقت سے آشنا و منور (enlightened) ھوا،اور اس سے ما قبل کا انسان چونکہ نان ھیومن تھا لہذا وحشی تھا اور وحشت و بربریت کی تاریخ معتبر تاریخ نہیں (گویا یہ سوال انکے نزدیک غیر متعلقہ ھے)۔ انکے نزدیک انسانی تہذیب کا سفر جدیدیت و تحریک تنویر سے شروع ھوتا ھے،اسی لئے یہ لوگ عیسائ یورپ کے ادوار کو دورظلمات (dark-ages) قرار دیتے ھیں۔
2) سرمایہ داری تاریخی سفر کا ناگزیر نتیجہ ھے (capitalism is inevitable historical necessity): یہ تعبیر بالعموم اجتماعیت پسند (خصوصا اشتراکی) تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے خیال میں سرمایہ داری ایک مسلسل انسانی تاریخ کا لازمی نتیجہ ھے، یعنی انسانی تاریخ مخصوص فطری سماجی قوانین کے تحت آگے بڑھتی ھے، یہ سماجی قوانین بالکل مادی دنیا کے قوانین کی مانند فطری و اٹل ھیں نیز ان سے مفر ممکن نہیں۔ ان سماجی قوانین کا تقاضا ھے کہ انسانی تاریخ کے ایک خاص مقام پر سرمایہ داری قائم ھوجاۓ (کیا انسانی تاریخ اس نظم سے آگے جاۓ گی یا نہیں اس میں یہ مختلف الاقوال ہیں، اکثریت کی راۓ میں یہ 'تاریخ کا خاتمہ' End of History ھے)
ان دونوں میں سے جو بھی تعبیر اختیار کرلی جاۓ، دونوں کے نتیجے میں یہ ماننا لازم آتا ھے کہ سرمایہ دارانہ نظم عقل انسانی کا جائز اور ارتقاء پزیر اظہار ھے، چونکہ یہ فطری و عقلی ھے لہذا یہ اخلاقی (moral) اور عادلانہ نظم ھے، چونکہ یہ عقلی اور فطری بنیادوں پر اپنا اخلاقی جواز رکھتا ھے لہذا:
(i) اسے ختم اور تبدیل کرنے کی ھر دعوت اور بات غیر عقلی، غیر فطری، غیر انسانی، غیر مہذبانہ، غیر عادلانہ اور غیر اخلاقی ھے
(ii) اسے بالفعل ختم کرنے کی جدوجہد کرنے اور اس سے نبزدآزما ھونے والا ھر گروہ انسانیت اور تہذیب کا دشمن ھے
(ii) ایسی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے والے ھر گروہ کو یا تو (بذریعہ رغبت، جدید تعلیم، سرمایہ دارانہ نظم میں شمولیت کے مواقع، جبر وغیرہ) مہذب بنانے کی ضرورت ھے اور یا پھر سرمایہ داری کی پشتی بان ریاستوں کو انسانی تہذیب کی بقا کی خاطر (In the name of people) ایسے ''انسانیت کش عناصر'' کو ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹادینے کا بیڑا اپنے سر اٹھالینا ضروری ھے اور یہ 'مقدس جہاد' اس وقت تک جاری رھنا چاھئے جب تک یا تو ایسے عناصر کا وجود ختم ھو جاۓ اوریا پھر یہ مغلوب ھو کر بے دست و پا ھو جائیں تاکہ دنیا جنت (سرمایہ داری) کا گڑھ بن جاۓ جہاں انسانی آزادی (autonomy) کا راج ھو
مگر ھم (مسلمان) سرمایہ داری کی ان دونوں میں سے کسی بھی تعبیر کو درست نہیں مانتے، ہمارے نزدیک سرمایہ داری شر ھے (capitalism is evil) کہ آزادی عبدیت کا رد اور خدا سے بغاوت کا ھم معنی ھے۔ ھم رب کا باغی بن جانے کو نہ تو انسانی فطرت و عقل کا تقاضا مانتے ہیں اور نہ ہی کسی تاریخی جبر کا لازمی نتیجہ۔ سرمایہ داری کا فروغ و غلبہ معاصی (حرص،حسد، غضب، شہوت) کے فروغ، اسکے علمی جواز (سائنس و سوشل سائنس) کی مقبولیت اور انکے حصول کیلئے وضع کی جانے والی ادارتی صف بندی (سول سوسائٹی، جمہوریت وغیرھم) کے جبر کا نتیجہ ھے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ داری کا غلبہ معصیت کی عمومیت کا نتیجہ ھے۔ ھم انسانی فطرت سے مایوس نہیں کہ انسان کسی بھی لمحے بغاوت اور معصیت سے توبہ کرکے عبدیت کا اقرار کرکے جنت کا مکلف بن سکتا ھے۔ لہذا سرمایہ داری کے خلاف ھر سطح (انفرادیت، معاشرت، ریاست، عسکری) پر نبزدآزما رھنا ہمارے لئے ناگزیر ھے، ھمارے لئے کسی طور اس سے مفر ممکن نہیں (کہ یہ ہماری 'ذاتی جنت' کے حصول کا راستہ ھے)۔ سرمایہ داری کے خلاف یہ جہاد اس وقت تک جاری رھے گا جب تک باطل مغلوب نہیں ھوجاتا کہ اس باطل کا غلبہ انسانیت کو حصول جنت کی خواھش کی طرف راغب کرنے اور اسے حاصل کرنے کی سعی کرنے پر راضی کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے۔ اس جہاد سے فرار کا راستہ صرف ایک ھے کہ ھم اسلام کے 'دین' ھونے کا انکار کردیں اور نتیجتا خود کو اس نظم میں سمو دینے کیلئے راضی ھوجائیں (مسلم ماڈرنزم اسی جدوجہد سے عبارت ھے)۔ جو لوگ سرمایہ داری کے خلاف جہاد کی ناگزیریت کے منکر ھیں وہ اسے بطور ایک نظام زندگی نہیں پہچانتے۔
مکمل تحریر >>
1) سرمایہ داری فطری اور اسی لئے عقلی نظم ھے (capitalism is natural and hence rational): یہ تعبیر بالعموم انفرادیت پسند لبرل تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے نزدیک سرمایہ داری (حصول آزادی و ترقی) انسانی فطرت کا واحد اور جائز اظہار ھے ان معنی میں کہ اگر انسان کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ تو وہ اپنی مرضی سے صرف اسی نظم کو اختیا رکرے گا۔ اگر ان مفکرین سے یہ سوال پوچھا جاۓ کہ اگر واقعی یہ فطری نظم ھے تو سترھویں صدی سے قبل یہ نظام کیوں کسی انسانی تہذیب میں نہیں پایا گیا؟ تو اسکے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ''enlightenment تو سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں آئی نا، یعنی انسان سترھویں اور اٹھارویں صدی ہی میں'ھیومن' بن کر علم و حقیقت سے آشنا و منور (enlightened) ھوا،اور اس سے ما قبل کا انسان چونکہ نان ھیومن تھا لہذا وحشی تھا اور وحشت و بربریت کی تاریخ معتبر تاریخ نہیں (گویا یہ سوال انکے نزدیک غیر متعلقہ ھے)۔ انکے نزدیک انسانی تہذیب کا سفر جدیدیت و تحریک تنویر سے شروع ھوتا ھے،اسی لئے یہ لوگ عیسائ یورپ کے ادوار کو دورظلمات (dark-ages) قرار دیتے ھیں۔
2) سرمایہ داری تاریخی سفر کا ناگزیر نتیجہ ھے (capitalism is inevitable historical necessity): یہ تعبیر بالعموم اجتماعیت پسند (خصوصا اشتراکی) تنویری مفکرین پیش کرتے ہیں۔ انکے خیال میں سرمایہ داری ایک مسلسل انسانی تاریخ کا لازمی نتیجہ ھے، یعنی انسانی تاریخ مخصوص فطری سماجی قوانین کے تحت آگے بڑھتی ھے، یہ سماجی قوانین بالکل مادی دنیا کے قوانین کی مانند فطری و اٹل ھیں نیز ان سے مفر ممکن نہیں۔ ان سماجی قوانین کا تقاضا ھے کہ انسانی تاریخ کے ایک خاص مقام پر سرمایہ داری قائم ھوجاۓ (کیا انسانی تاریخ اس نظم سے آگے جاۓ گی یا نہیں اس میں یہ مختلف الاقوال ہیں، اکثریت کی راۓ میں یہ 'تاریخ کا خاتمہ' End of History ھے)
ان دونوں میں سے جو بھی تعبیر اختیار کرلی جاۓ، دونوں کے نتیجے میں یہ ماننا لازم آتا ھے کہ سرمایہ دارانہ نظم عقل انسانی کا جائز اور ارتقاء پزیر اظہار ھے، چونکہ یہ فطری و عقلی ھے لہذا یہ اخلاقی (moral) اور عادلانہ نظم ھے، چونکہ یہ عقلی اور فطری بنیادوں پر اپنا اخلاقی جواز رکھتا ھے لہذا:
(i) اسے ختم اور تبدیل کرنے کی ھر دعوت اور بات غیر عقلی، غیر فطری، غیر انسانی، غیر مہذبانہ، غیر عادلانہ اور غیر اخلاقی ھے
(ii) اسے بالفعل ختم کرنے کی جدوجہد کرنے اور اس سے نبزدآزما ھونے والا ھر گروہ انسانیت اور تہذیب کا دشمن ھے
(ii) ایسی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے والے ھر گروہ کو یا تو (بذریعہ رغبت، جدید تعلیم، سرمایہ دارانہ نظم میں شمولیت کے مواقع، جبر وغیرہ) مہذب بنانے کی ضرورت ھے اور یا پھر سرمایہ داری کی پشتی بان ریاستوں کو انسانی تہذیب کی بقا کی خاطر (In the name of people) ایسے ''انسانیت کش عناصر'' کو ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹادینے کا بیڑا اپنے سر اٹھالینا ضروری ھے اور یہ 'مقدس جہاد' اس وقت تک جاری رھنا چاھئے جب تک یا تو ایسے عناصر کا وجود ختم ھو جاۓ اوریا پھر یہ مغلوب ھو کر بے دست و پا ھو جائیں تاکہ دنیا جنت (سرمایہ داری) کا گڑھ بن جاۓ جہاں انسانی آزادی (autonomy) کا راج ھو
مگر ھم (مسلمان) سرمایہ داری کی ان دونوں میں سے کسی بھی تعبیر کو درست نہیں مانتے، ہمارے نزدیک سرمایہ داری شر ھے (capitalism is evil) کہ آزادی عبدیت کا رد اور خدا سے بغاوت کا ھم معنی ھے۔ ھم رب کا باغی بن جانے کو نہ تو انسانی فطرت و عقل کا تقاضا مانتے ہیں اور نہ ہی کسی تاریخی جبر کا لازمی نتیجہ۔ سرمایہ داری کا فروغ و غلبہ معاصی (حرص،حسد، غضب، شہوت) کے فروغ، اسکے علمی جواز (سائنس و سوشل سائنس) کی مقبولیت اور انکے حصول کیلئے وضع کی جانے والی ادارتی صف بندی (سول سوسائٹی، جمہوریت وغیرھم) کے جبر کا نتیجہ ھے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ داری کا غلبہ معصیت کی عمومیت کا نتیجہ ھے۔ ھم انسانی فطرت سے مایوس نہیں کہ انسان کسی بھی لمحے بغاوت اور معصیت سے توبہ کرکے عبدیت کا اقرار کرکے جنت کا مکلف بن سکتا ھے۔ لہذا سرمایہ داری کے خلاف ھر سطح (انفرادیت، معاشرت، ریاست، عسکری) پر نبزدآزما رھنا ہمارے لئے ناگزیر ھے، ھمارے لئے کسی طور اس سے مفر ممکن نہیں (کہ یہ ہماری 'ذاتی جنت' کے حصول کا راستہ ھے)۔ سرمایہ داری کے خلاف یہ جہاد اس وقت تک جاری رھے گا جب تک باطل مغلوب نہیں ھوجاتا کہ اس باطل کا غلبہ انسانیت کو حصول جنت کی خواھش کی طرف راغب کرنے اور اسے حاصل کرنے کی سعی کرنے پر راضی کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے۔ اس جہاد سے فرار کا راستہ صرف ایک ھے کہ ھم اسلام کے 'دین' ھونے کا انکار کردیں اور نتیجتا خود کو اس نظم میں سمو دینے کیلئے راضی ھوجائیں (مسلم ماڈرنزم اسی جدوجہد سے عبارت ھے)۔ جو لوگ سرمایہ داری کے خلاف جہاد کی ناگزیریت کے منکر ھیں وہ اسے بطور ایک نظام زندگی نہیں پہچانتے۔
سرمایہ داری کیا ھے؟
Posted by
Unknown
تنویری ڈسکورس نے جس نظام زندگی کو تعمیر کیا اور فروغ دیا اسے سرمایہ داری کہتے ہیں۔ سرمایہ داری انسان کو قائم بالذات اور اسکی آزادی کے فروغ کو عقل کے بدیہی مقصد کے طور پر مان لینے کا نام ھے۔ تنویری ڈسکورس کے مطابق انسان 'اصولا آزاد' ھے، ان معنی میں کہ وہ اپنے اندر یہ خواہش اور صلاحیت رکھتا ھے کہ قائم بالذات (self-determined) بن جاۓ۔ لیکن عملا وہ آزاد نہیں کیونکہ اسکی آزادی کو مادی، سماجی اور قانونی ہر تین طرح کی قوتیں محدود کرتی ہیں۔ سرمایہ داری ان مادی، سماجی اور قانونی پابندیوں کے خلاف جدوجہد کا نظام ھے جو ارادہ انسانی کی متصور آزادی پر لگی ھوئی ہیں یا لگائ گئی ہیں۔
مثلا مادی سطح پر آج انسان نظام شمسی سے باہر نہیں جا سکتا، زلزلے یا طوفان کو نہیں روک سکتا، بوڑھا ھوجاتا ھے، موت کا شکار ھوجاتا ھے، ماں باپ کے بغیر پیدا نہیں ھوسکتا وغیرہ۔ انسانی ارادے کی تکمیل میں حائل ان مادی رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے سرمایہ داری نے جو علمی نظام وضع کیا اسے ٹیکنو سائنسز (techno-sciences) کہتے ہیں جنکا مقصد کائنات پر ارادہ انسانی کے تسلط کو ممکن بنانے کی پیہم جدوجہد کرنا ھے۔ یہ تنویری علمیت اس جنون کو پروان چڑھاتی ھے کہ انسان کو اسکے ارادے سے ماوراء ہر کائناتی قوت سے آزاد کرانا ممکن ھے۔
اسی طرح سماجی سطح پر بھی وہ رکاوٹوں کا شکار ھے جسکی سب سے بڑی شکل روایتی تعلقات کے تانے بانے ہیں۔ تنویری فکر کے خیال میں ان معاشرتی حدبندیوں کی وجہ یہ ھے کہ یہ معاشرے حصول آزادی کے سواء کسی دوسرے مقصد (مثلا حصول رضاۓ الہی) کیلئے قائم کئے جاتے ہیں۔ لہذا اسکا حل انہوں نے مارکیٹ یا سول سوسائٹی کی صورت میں پیش کیا جہاں تعلقات توڑنے اور جوڑنے کی بنیاد فرد کی ذاتی اغراض کا حصول ھوتا ھے اور ان تعلقات کو توڑنے کے باوجود اسکی معاشرتی حیثیت پر کوئ فرق نہیں پڑتا۔ لبرل تنویری مفکرین کے نزدیک سول سوسائٹی وہ فریم ورک فراہم کرتی جسکے اندر فرد جو چاھنا چاھے چاہ سکتا اور اسے حاصل کرسکتا ھے بشرطیکہ دوسرے کے حق خود ارادیت کو چیلنج نہ کرے۔ ایسا معاشرتی نظم کیسے قائم ھوتا ھے نیز اسے کیسے ریگولیٹ کیا جانا چاہئے سوشل سائنسز اسی کی حکمت عملی وضع کرتی ہیں۔
اسی طرح فرد قانونی حد بندیوں کا شکار بھی ھے، مثلا یورپ و امریکہ میں دوسری شادی نہیں کرسکتا، کیوبا میں زمین نہیں خرید سکتا، پاکستان یا سعودی عرب میں سر عام بدکاری نہیں کرسکتا وغیرہ۔ اس مسئلے کا حل لبرل مفکرین کے نزدیک ھیومن رائٹس کا پابند جمہوری نظام ھے جہاں قانون کا مقصد تحفظ آزادی کے سواء اور کچھ نہیں ھونا چاہئے۔ انکے نزدیک ریاست کو ایسے تمام عقائد، اداروں، روایات و تعلقات کا قلع قمع کردینا چاھئے جو فرد کی آزادی چاھنے (نفس عمارہ کا بندہ بننے) کی اس خواہش میں کمی کا باعث بنتے ھوں۔
(لبرل) سرمایہ داری ان تین قسم کی ادارتی صف بندیوں (سرمایہ دارانہ علمیت یعنی سائنس و سوشل سائنسز، سول و مارکیٹ سوسائٹی اور جمہوری ریاستی نظم) کی تنظیم و تشکیل کا نام ھے۔ چونکہ آزادی کی عملی تجسیم و مجرد شکل سرمایہ ھے (کہ سرمایہ انسان کو اسکی ہرچاھت حاصل کرنے کا مکلف بناتا ھے)، لہذا سرمایہ دارانہ تنظیمات کا مقصود سرمائے میں لامحدود اضافے کو ممکن بنانا ھوتا ھے، ہر وہ ترتیب خواہشات جو سرماۓ میں اضافے کا باعث نہ بنے سرمایہ دارانہ نظام میں غیر معقول سمجھی جاتی ھے۔
Tuesday, October 8, 2013
خیرالقرون کے بجائے دور جدید کو بہتر سمجھنے والی ذہنیت کی در ماندگی
Posted by
Unknown
جدید دور سرمایہ داری (بڑھوتری سرمایہ) کے فروغ کی خاطر اختیار کردہ
ادارتی صف بندی کا نتیجہ ھے۔ یہ نظم انسانیت پرستی (humanism) کے بنیادی
عقیدے پر قائم ھے جہاں انسان کو مرکز کائنات مان کر اسکی آزادی (یعنی
سرمائے) میں اضافے کے تناظر میں ہر شے میں معنویت تلاش کی جاتی اور اسی
پیمانے پر اسکی قدر متعین کی جاتی ھے۔ ھر شے کو اس پیمانے پر کسنے
اور اس مقصد کیلئے استعمال کرنے کے جنون کا نتیجہ یہ ھے کہ آج دنیا بے
شمار قسم کے خطرات سے دوچار ھے، حصول نفع کیلئے کائناتی قوتوں اور ذرائع کا
اس بےدردی کے ساتھ استحصال کیا جارہا ھے جس سے یہاں کی ہر مخلوق بشمول
انسان خطرے سے دوچار ھے۔ کائنات کی ان گنت مخلوقات کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ
چکا اور متعدد کا وجود خطرے سے دوچار ھے، انڈسٹرئیل ویسٹ سے آبی ذخائر
ضائع ھورھے ہیں، مختلف قسم کی گیسز کے اخراج سے چرند پرند خطرات سے دوچار
ہیں، اور تو اور موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایسی بیماریوں نے جنم لے لیا
جس سے بذات خود یہ انسان بھی محفوظ نہیں رھا۔ بڑھوتری سرمایہ کیلئے قائم
کردہ اس نظام نے تسکین لذات کیلئے کچھ سازوسامان اس قیمت پر پیدا کردیا ھے
کہ بشمول انسان ہر چیز یہاں خطرے سے دوچار ھے۔
مگر طرفہ تماشا یہ ھے کہ ایک ایسے دور میں کہ جب یہ بات معلوم ھوچکی کہ حصول آزادی اور ترقی پر مبنی نظام زندگی کائنات کی وجودیاتی (ontological) ساخت کے ساتھ ھم آھنگ نہیں جدید مسلم ذھن اب بھی اس تہذیب کش نظام اور دور جدید کو کسی معنی میں قرون اولی سے اعلی و ارفع اور برتر سمجھتا ھے۔ یہ سمجھ رہا ھے کہ ''معیار زندگی کو بلند کرنے کا یہ سفر'' گویا کسی اخلاقی سیڑھی چڑھنے کے مترادف ھے، اسکے خیال میں گھوڑے کے بجائے کار یا جہاز پر سفر کرنا بذات خود کسی قسم کی اخلاقی برتری کا نام ھے، تب ہی تو گھوڑے کی سواری سے اسے وحشت ھوتی ھے۔
یہ جدید ذھن فرض کئے بیٹھا ھے کہ ترقی کے اس سفر کے نتیجے میں اسلام پر عمل کرنے کے مکانات معدوم نہیں ھوتے۔ اسکا گمان ھے کہ نفع خوری پر مبنی اور اس سے تشکیل پانے والے مادی ترقی کے اس نظم کے اندر رھتے ھوئے اس انفرادیت کی دریافت ممکن ھے جو اسلام کو مطلوب و مقصود ھے۔ مگر ظاھر ھے اسکے یا تمام مفروضات غیر علمی و بے بنیاد ہیں، اگر خدا کا کوئی کام اور اسکے حبیب (ص) کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ھوتی تو رسول اللہ (ص) کا ایک مخصوص دور میں پیدا ھونا اور پھر اسے ہی خیرالقرون قرار دینا کوئی معمولی یا ھلکی بات نہیں ۔۔۔۔ کہ اسے ''آئیڈئیل'' قرار دیا گیا۔
مکمل تحریر >>
مگر طرفہ تماشا یہ ھے کہ ایک ایسے دور میں کہ جب یہ بات معلوم ھوچکی کہ حصول آزادی اور ترقی پر مبنی نظام زندگی کائنات کی وجودیاتی (ontological) ساخت کے ساتھ ھم آھنگ نہیں جدید مسلم ذھن اب بھی اس تہذیب کش نظام اور دور جدید کو کسی معنی میں قرون اولی سے اعلی و ارفع اور برتر سمجھتا ھے۔ یہ سمجھ رہا ھے کہ ''معیار زندگی کو بلند کرنے کا یہ سفر'' گویا کسی اخلاقی سیڑھی چڑھنے کے مترادف ھے، اسکے خیال میں گھوڑے کے بجائے کار یا جہاز پر سفر کرنا بذات خود کسی قسم کی اخلاقی برتری کا نام ھے، تب ہی تو گھوڑے کی سواری سے اسے وحشت ھوتی ھے۔
یہ جدید ذھن فرض کئے بیٹھا ھے کہ ترقی کے اس سفر کے نتیجے میں اسلام پر عمل کرنے کے مکانات معدوم نہیں ھوتے۔ اسکا گمان ھے کہ نفع خوری پر مبنی اور اس سے تشکیل پانے والے مادی ترقی کے اس نظم کے اندر رھتے ھوئے اس انفرادیت کی دریافت ممکن ھے جو اسلام کو مطلوب و مقصود ھے۔ مگر ظاھر ھے اسکے یا تمام مفروضات غیر علمی و بے بنیاد ہیں، اگر خدا کا کوئی کام اور اسکے حبیب (ص) کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ھوتی تو رسول اللہ (ص) کا ایک مخصوص دور میں پیدا ھونا اور پھر اسے ہی خیرالقرون قرار دینا کوئی معمولی یا ھلکی بات نہیں ۔۔۔۔ کہ اسے ''آئیڈئیل'' قرار دیا گیا۔
جدیدیت کے مقابلے کیلئے بریلوی، دیوبندی و سلفی شناختوں کے فروغ کی ضرورت و اھمیت
Posted by
Unknown
بریلویت، دیوبندیت و سلفیت برصغیر میں اسلامی انفرادیت کے جائز اظھار کے مختلف علمی دھارے ھیں۔ اس خطے میں سرمایہ دارانہ استعماری غلبے کے بعد انھی اسلامی گروھوں نے ایک طرف اسلامی علمیت اور روایات کا تحفظ کیا اور دوسری طرف مسلم ماڈرن ازم کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے یہ سرمایہ داری کے فروغ میں رکاوٹ بنے۔ چنانچہ اس خطہ ارضی میں مذھبی بنیادوں پر "ماڈرن یا لبرل مسلم شناخت" کا مقابلہ کرنے کےلیۓ ان شناختوں کا فروغ نھایت ضروری ھے کیونکہ یھاں یھی شناختیں تعارف اسلام کی نفسیاتی و تاریخی بنیادیں رکھتی ھیں اور انکا فروغ درحقیقت روایتی اسلام کے فروغ کا سھل ترین طریقہ ھے۔ ان شناختوں کو تحلیل نھیں ھونا چاھیۓ کیونکہ انکے تحلیل ھونے کی صورت میں جو شے انفرادی شناخت کا ذریعہ بنتی ھے وہ یا تو تجدد پسندانہ اسلام کی صورت میں ھوتی ھے (جھاں متجددین حضرات کو ان لوگوں پر ھاتھ صاف کرنے کا موقع مل جاتا ھے) اور یا پھر سول سوسایٹی سے نکلنے والے تعلقات کے تانے بانے کی صورت میں (مثلا کارپوریشن،انٹرسٹ گروپس،سماجی تنظیموں کی شناخت وغیرہ)۔ ان دونوں کے فروغ کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ انفرادیت و معاشرت ھی پروان چڑھتی ھے۔ لھذا اس خطہ ارضی میں ان روایتی شناختوں کا قیام و بقا ضروری امر ھے اور انھیں اپنے تعارف کے طور پر اختیار کرنے میں کوئ عار محسوس نھیں کرنی چاھیۓ، اس شرط کے ساتھ کہ دوسرے گروہ کو کافر، مشرک، بدعتی، گستاخ رسول وجہنمی نہ سمجھا جاۓ بلکہ انکی پوزیشن کو نصوص کی کلامی تعبیر و تاویلی غلطی پر محمول کیا جاۓ۔ اگر ھمارے علماۓ متقدمین باوجود اھم نوعیت کے کلامی و فقھی اختلافات کے اھل سنت و الجماعت میں شمار ھوسکتے ھیں تو آج ھمیں خود پر اس دروازے کو بند نھیں کرلینا چاھیۓ۔ بصورت دیگر ھماری آپسی چپقلش سے لبرل و متجددین حضرات ھی کو فائدہ ھوگا۔