Monday, October 7, 2013

غامدی صاحب اور انکے تلامذہ سے ایک اور سوال ۔۔۔ کیا ''بیان فطرت'' کا دروازہ آج بھی کھلا ھے؟


غامدی صاحب اور انکے تلامذہ کا مفروضہ ھے کہ اخبار احاد سے دین کا مستقل حکم ثابت نہیں ھوتا، جن احادیث میں ایسے احکامات بیان ھوئے ہیں (مثلا خالہ اور بھانجی کا بیک وقت نکاح میں جمع، کچلی والے درندوں اور گدھے کی حرمت وغیرہ) وہ ''بیان شریعت'' نہیں بلکہ ''بیان فطرت'' یا ''منطقی استنباط'' کے باب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے انکی اس پوزیشن پر اعتراضات اٹھائے جاچکے ہیں جو بالکل واضح طور پر انکے اس اصول کا رد کرتے ہیں۔ یہاں انکے اس غلط اصول کا ایک اور پہلو سے جائزہ لیتے ہیں۔

فرقہ غامدیہ کا مفروضہ ھے کہ اگرچہ احادیث رسول اللہ (ص) کے ''فہم دین'' کو سمجھنے کا ذریعہ ھیں، مگر رسول اللہ (ص) نے کبھی انکی حفاظت کی فکر نہ کی کیونکہ یہ ''ماخذ دین'' نہیں، ان احادیث میں بیان کردہ احکامات بس 'بیان فطرت' یا 'منطقی استنباط' قسم کی چیزیں ھیں (اور اس بات کا اطلاق غامدی صاحب گویا یوں کرتے ہیں گویا اگر یہ احادیث نہ بھی ھوتیں تو بھی انسان اپنی عقل یا مطالعہ فطرت سے ان احکامات تک پہنچ سکتا تھا)۔ اس ضمن میں سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا ''بیان فطرت'' کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ھے یا اب بند ھوچکا؟ کیا آج کوئی شخص یا عالم قرآن کے حلال کو 'بیان فطرت' کے نام پر حرام یا حرمت کی لسٹ میں اضافہ کرسکتا ھے؟ اگر ھاں، تو کیا اسکی حیثیت وہی ھوگی جو احادیث کے بیان فطرت کی ھے؟ تفہیم کیلئے ایک مثال لیتے ہیں۔

موجودہ میڈیکل سائنس کہنے لگی ھے کہ کزن میریج کے نتیجے میں بیمار بچے پیدا ھونے کے امکانات زیادہ ھوتے ہیں وغیرہ۔ آج بہت سے لوگ اس بات پر یقین کرنے لگے ھیں اور فرض کریں آہستہ آہستہ ایک متعدد بہی لوگوں کا شعور اس بات کو قبول کرلیتا ھے۔ کیا اس بنیاد پر کوئی صاحب علم 'کزن' کے ساتھ شادی کی حرمت کا فتوی جاری کرسکتا ھے؟ آخر ایسا کیوں نہیں ھوسکتا کہ کزن کے ساتھ شادی بھی بیان فطرت کے باب سے ھو جسکا ذکر قرآن میں بیان ھونے سے رہ گیا ھو؟ ویسے بھی غامدی صاحب کے بقول قرآن تو بیان شرع ھے جو صرف ان معاملات میں مداخلت کرتا ھے جہاں انسانی عقل و فطرت کے پاس فیصلہ کرنے کی بنیاد نہ ھونے کی وجہ سے ٹھوکر لگنے کا امکان ھو اور کزن میرج کا نقصاندہ ھونا تو سائنس بتانے لگی ھے، یعنی اسکی بنیاد تو انسان کے پاس موجود ھے، تو یقینا قرآن کا اسکی حرمت کے بارے خاموش رھنا خود انکی منطق کے مطابق بتا رھا ھے کہ یہ معاملہ شریعت کے باب سے نہیں بلکہ بیان فطرت سے ھے۔ لہذا سوال یہ ھے کہ
1) کزن کے ساتھ میریج کو "بیان فطرت" مان کر اسکی حرمت کا فتوی کیوں نہ داغا جائے؟
2) کیا اس فتوے کی حیثیت ویسی ھی ھوگی جیسی حدیث کے احکامات کا بیان فطرت ھونا؟
3) اگر بیان فطرت کے تحت یہ فتوی دینا جائز ھے تو پھر ان تمام شادیوں کا حکم کیا ھوگا جو رسول اللہ (ص) کے دور سے لیکر آج تک ھوتی رہیں؟
4) اگر جواب نفی میں ھے تو اسکی وجہ کیا ھے؟ آخر وہ کونسی علمی بنیاد اور اصول ھے جسکی بنا پر گدھے، چیتے، عقاب کی حرمت پر تو 'بیان فطرت' کا اطلاق ھوتا ھے مگر کزن میرج پر نہیں؟
5) جب انسانی علم ھر لحظے ارتقاء پزیر ھے تو آخر چودہ سو سال پہلے کے انسان کا 'فہم فطرت' اس معاملے میں کیوں کر دلیل مانا جائے؟

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔